بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سیدنا علاء حضرمی رضی اللہ عنہ کی تین خصلتوں کا بیان
Mujam Saghir al-Tabarani
کتب المعجم الصغیر للطبرانی جہاد کا بیان سیدنا علاء حضرمی رضی اللہ عنہ کی تین خصلتوں کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 572 المعجم الصغیر للطبرانی
الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ الْبَصْرِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، أَبِي كَعْبٍ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ صَاحِبُ الْهَرَوِيِّ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ صَاحِبِ الْحَرِيرِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" لَمَّا بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَلاءَ الْحَضْرَمِيَّ إِلَى الْبَحْرَيْنِ تَبِعْتُهُ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثَلاثَ خِصَالٍ لا أَدْرِي أَيَّتَهُنَّ أَعْجَبُ، انْتَهَيْنَا إِلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ، فَقَالَ: سَمُّوا اللَّهَ، وَاقْتَحِمُوا، فَسَمَّيْنَا، وِاقْتَحَمْنَا، فَعَبَرْنَا، فَمَا بَلَّ الْمَاءُ إِلا أَسَافِلَ خُفَافِ إِبِلِنَا، فَلَمَّا قَفَلْنَا، صِرْنَا مَعَهُ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ فَصَلَّى: صَلُّوا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ، فَإِذَا سَحَابَةٌ مثل التُّرْسِ، ثُمَّ أَرْخَتْ عَزَالِيَهَا، فَشَرِبْنَا، وَأَسْقَيْنَا، وَمَاتَ، فَدَفَنَّاهُ فِي الرَّمَلِ، فَلَمَّا سِرْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ قُلْنَا: يَجِيءُ السَّبْعُ فَيَأْكُلُهُ، فَرَجَعْنَا، فَلَمْ نَرَهُ"، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي كَعْبٍ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، صَاحِبِ الْحَرِيرِ الْبَصْرِيِّ، إِلا إِبْرَاهِيمُ صَاحِبُ الْهَرَوِيُّ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، إِلا أَبُو كَعْبٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علاء حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا تو میں بھی ان کے پیچھے چلا گیا، میں نے ان میں تین خصلتیں دیکھیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان میں سے کون سی خصلت مجھے پیاری ہے۔ ہم سمندر کے کنارے پہنچے تو انہوں نے کہا کہ بسم اللہ پڑھ کر گھس جاؤ۔ ہم بسم اللہ پڑھ کے گھسے تو سمندر پار کر لیا۔ ہمارے اونٹوں کے نچلے موزے ہی پانی سے گیلے ہوئے، جب ہم لوٹے تو ہم ایک خشک زمین میں ان کی طرف ہوئے۔ وہاں پانی نہیں تھا۔ تو ہم نے ان کی طرف یہ شکایت کی تو وہ نماز پڑھنے لگے، پھر سب نے دو رکعتیں پڑھیں اور دعا کی تو اچانک ایک بدلی ڈھال جیسی نمودار ہوئی، پھر اس نے اپنے پہلو ڈال دیے تو ہم نے اس سے پانی پیا اور اونٹوں کو پلایا۔ پھر جب وہ فوت ہوئے تو ہم نے انہیں ریت میں دفن کر دیا۔ جب ہم وہاں سے چلنے لگے تو ہم نے کہا انہیں کہیں کوئی درندہ نہ کھا جائے، جب ہم وہاں واپس آئے تو انہیں وہاں نہ پایا۔ [معجم صغير للطبراني/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 572]
تخریج الحدیث
«إسناده حسن، وأخرجه الطبراني فى «الكبير» برقم: 167، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3495، والطبراني فى «الصغير» برقم: 400
قال الهيثمي: فيه إبراهيم بن معمر الهروي والد إسماعيل ولم أعرفه وبقية رجاله ثقات، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (9 / 376)»
الحكم على الحديث
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن