بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مقتولینِ بدر کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کا بیان
Mujam Saghir al-Tabarani
کتب المعجم الصغیر للطبرانی نماز جنازہ اور موت کے ذکر کا بیان مقتولینِ بدر کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 362 المعجم الصغیر للطبرانی
مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ الْكِسَائِيُّ الأُبُلِّيُّ ، شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ الْكِسَائِيُّ الأُبُلِّيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَنْشَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُنَا" عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالأَمْسِ مِنْ بَدْرٍ، يَقُولُ: هَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ غَدًا، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ عُمَرُ: فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ، مَا أَخْطَأُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: يَا فُلانُ بْنَ فُلانٍ، وَيَا فُلانُ بْنَ فُلانٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا؟، فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لا أَرْوَاحَ فِيهَا؟، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا شَيْئًا"، لا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عُمَرَ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اہل بدر کے متعلق بیان کرنے لگے، چنانچہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں اہل بدر کے بچھڑنے کی جگہیں ایک دن پہلے ہی بتانے لگے، اور فرمایا: یہاں پر فلاں کافر گرے گا، یہاں پر فلاں گرے گا۔ پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا، وہ اس حد سے نہیں گزرے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے گرنے کی بتائی تھی، پھر وہ اوپر نیچے کر کے ایک کنویں میں ڈال دیے گئے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف گئے اور فرمانے لگے: اے فلاں بن فلاں شخص! کیا جو کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے تم سے وعدہ کیا تھا وہ تم نے سچا پا لیا ہے؟ میں نے تو وہ وعدہ جو مجھ سے میرے اللہ نے کیا تھا، سچا پا لیا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کس طرح ایسے اجسام سے باتیں کر رہے ہیں جن میں زندگی ہی نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں جو کہہ رہا ہوں وہ تم سے زیادہ یہ سن رہے ہیں۔ صرف اتنی بات ہے کہ یہ جواب نہیں دے سکتے۔ [معجم صغير للطبراني/کِتَابُ الْجَنَائِزِ وَ ذِکْرُ الْمَوْت/حدیث: 362]
تخریج الحدیث
«أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2873، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2074، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2212، وأحمد فى «مسنده» برقم: 184، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 40، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 140، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 37864، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 8453، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1085»
الحكم على الحديث
صحيح
الحكم: صحيح