أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْبَرْنِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، أَبُو سَعِيدٍ ، أَبِي خَلْدَةَ ، مَيْمُونٍ الْكُرْدِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْبَرْنِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ ، عَنْ مَيْمُونٍ الْكُرْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مَا قَلَّ مِنَ الْمَهْرِ أَوْ كَثُرَ لَيْسَ فِي نَفْسِهِ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَيْهَا حَقَّهَا خَدَعَهَا، فَمَاتَ، وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهَا حَقَّهَا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ زَانٍ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ اسْتَدَانَ دَيْنًا لا يُرِيدُ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى صَاحِبِهِ حَقَّهُ خَدْعَةً حَتَّى أَخَذَ مَالَهُ، فَمَاتَ، وَلَمْ يَرُدَّ إِلَيْهِ دِينَهُ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ سَارِقٌ"، لَمْ يَرْوِ أَبُو مَيْمُونٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا، وَلا يُرْوَى عَنْهُ إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
میمون کردی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کسی عورت سے تھوڑے یا زیادہ مہر پر نکاح کرے، اور اس کے دل میں یہ ہو کہ وہ اسے ادا نہ کرے گا اور اس کو دھوکہ دے، پھر وہ اس حال میں مر جائے کہ اس کا حق ادا نہ کیا ہو تو اللہ کو قیامت والے دن اس حال میں ملے گا جیسا کہ زانی۔ اور جو شخص کسی سے قرض لے اور اسے ادا نہ کرنا چاہتا ہو، وہ قرضہ دینے والے کو دھوکہ دے رہا ہو یہاں تک کہ اس سے مال لے لے۔ پھر اگر وہ حق ادا کیے بغیر مر جائے تو اللہ کو ایسے ملے گا جیسے چور۔“ [معجم صغير للطبراني/كِتَابُ النِّكَاح/حدیث: 475]
تخریج الحدیث
«إسناده صحيح، أخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 1851، 6213، والطبراني فى «الصغير» برقم: 111
قال الھیثمی: ورجاله ثقات، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (4 / 284)»
الحكم على الحديث
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح