بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

المعجم الصغیر للطبرانی

حدیث نمبر: 323 — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے لیے محبت کا بیان
کتب المعجم الصغیر للطبرانی نماز کا بیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے لیے محبت کا بیان حدیث 323
مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِكْرِمَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ ، مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى مُزَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِطَلَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَطَلَبَهُ فِي بُيُوتِهِ، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَأَتْبَعَهُ فِي سِكَّةٍ حَتَّى دُلَّ عَلَيْهِ فِي جَبَلِ ثَوَابٍ فَخَرَجَ حَتَّى رَقِيَ جَبَلَ ثَوَابٍ، فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالا، فَبَصُرَ بِهِ فِي الْكَهْفِ الَّذِي اتَّخَذَ النَّاسُ إِلَيْهِ طَرِيقًا إِلَى مَسْجِدِ الْفَتْحِ، قَالَ مُعَاذٌ: فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ، فَهَبَطْتُ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ، وَهُوَ سَاجِدٌ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى أَسَأْتُ بِهِ الظَّنَّ، فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ قُبِضَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" لَقَدْ أَسَأْتُ بِكَ الظَّنَّ، وَظَنَنْتُ أَنَّكَ قَدْ قُبِضْتَ، فَقَالَ: جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ بِهَذَا الْمَوْضِعِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلامَ، وَيَقُولُ لَكَ: مَا تُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ؟، قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَنِي، فَقَالَ إِنَّهُ يَقُولُ: لا أَسُوءُكَ فِي أُمَّتِكَ، فَسَجَدْتُ، فَأَفْضَلُ مَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ السُّجُودُ"، لا يُرْوَى عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذٍ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلاش میں نکلے تو کہیں نہ پایا، پھر گھروں میں تلاش کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ ملے، پھر وہ گلی گلی پھرنے لگے یہاں تک جبل ثواب پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پتہ چلا تو وہ اس پر چڑھ گئے تو دائیں بائیں دیکھا تو اس غار میں دیکھا جسے لوگوں نے مسجد فتح کی طرف راستہ بنایا تھا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سجدے میں گرے ہوئے تھے، تو میں پہاڑ کی چوٹی سے اترا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر نہ اٹھایا تو میرے دل کو شکوک آگئے، میں نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فوت ہو گئے، پھر جب سر اٹھایا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کے متعلق غلط خیال کیا تھا کہ آپ فوت ہو گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس اس جگہ جبریل علیہ السلام آئے تو کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں سلام فرماتے ہیں اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ اپنی امت کے ساتھ کون سا سلوک پسند کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتے ہیں۔ پھر وہ چلے گئے اور پھر آئے اور کہنے لگے: ہم تجھے تیری امت کے متعلق غم ناک نہیں کریں گے، تو میں نے سجدہ کیا، تو بہت فضیلت والی جگہ جس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے وہ سجدہ ہے۔ [معجم صغير للطبراني/كِتَابُ الصَّلوٰةِ/حدیث: 323]
تخریج الحدیث
«إسناده ضعيف، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 9105، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1097»
الحكم على الحديث
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
← پچھلی حدیث (322) باب پر واپس اگلی حدیث (324) →