بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
(زیادت ثقہ کے مقبول ہونے کی شروط)
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: کتاب العلل (زیادت ثقہ کے مقبول ہونے کی شروط)
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q3963 Q3963 Q3963 Q3963 Q3963 Q3963 Q3963 Q3963 Q3963 Q3963 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَإِنَّمَا يَصِحُّ إِذَا كَانَتْ الزِّيَادَةُ مِمَّنْ يُعْتَمَدُ عَلَى حِفْظِهِ مِثْلُ مَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:"فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ".
‏‏‏‏ الفاظ کی زیادتی اس وقت صحیح ہو گی جب یہ حفظ کے اعتبار سے قابل اعتماد راوی کی روایت سے ہو جیسے مالک بن انس کی بسند «نافع عن ابن عمر» روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان میں زکاۃ فطر ہر مسلمان آزاد اور غلام مرد اور عورت سب پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]
قَالَ: وَزَادَ مَالِكٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ"مِنْ الْمُسْلِمِينَ".
‏‏‏‏ مالک نے اس حدیث میں «من المسلمین» کا لفظ زیادہ روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]
وَرَوَى أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ:"مِنْ الْمُسْلِمِينَ".
‏‏‏‏ ایوب سختیانی، عبیداللہ بن عمر اور کئی ائمہ حدیث نے اس حدیث کو بسند «نافع عن ابن عمر» روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اس میں «من المسلمین» کا لفظ نہیں ذکر کیا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]
وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَ رِوَايَةِ مَالِكٍ مِمَّنْ لا يُعْتَمَدُ عَلَى حِفْظِهِ.
‏‏‏‏ بعض رواۃ نے نافع سے مالک کی روایت کے ہم مثل روایت کی، جو حفظ میں قابل اعتماد نہیں ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]
وَقَدْ أَخَذَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ بِحَدِيثِ مَالِكٍ، وَاحْتَجُّوا بِهِ، مِنْهُمْ: الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالا: إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَبِيدٌ غَيْرُ مُسْلِمِينَ لَمْ يُؤَدِّ عَنْهُمْ صَدَقَةَ الْفِطْرِ، وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ مَالِكٍ.
‏‏‏‏ کئی ائمہ حدیث نے مالک کی حدیث پر اعتماد کیا ہے جن میں شافعی اور احمد بن حنبل ہیں، یہ دونوں کہتے ہیں کہ آدمی کے پاس اگر غیر مسلم غلام ہوں تو ان کی طرف سے زکاۃ فطر نہیں نکالے گا۔ اور اس پر مالک کی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]
فَإِذَا زَادَ حَافِظٌ مِمَّنْ يُعْتَمَدُ عَلَى حِفْظِهِ قُبِلَ ذَلِكَ عَنْهُ.
‏‏‏‏ اور اگر حفظ میں قابل اعتماد راوی حدیث میں کوئی لفظ زیادہ روایت کرے تو اس کی زیادتی قبول کی جائے گی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]
4- وَرُبَّ حَدِيثٍ يُرْوَى مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، وَإِنَّمَا يُسْتَغْرَبُ لِحَالِ الإِسْنَادِ.
‏‏‏‏ ۴- اور کبھی حدیث بہت سارے طرق سے مروی ہوتی ہے لیکن غرابت مخصوص سند کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، وَأَبُو السَّائِبِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الأَسْوَدِ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَائٍ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ".
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں: ہم سے ابوکریب، ابوہشام رفاعی، ابوالسائب، حسین بن الاسود نے روایت کی وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابواسامہ نے روایت کی، ابواسامہ بسند «برید بن عبداللہ بن ابی بردة عن جدہ ابی بردة» روایت کرتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہتے ہیں: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافر سات آنت میں ۱؎۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]
قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ.
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، یہ متعدد طرق سے مرفوعاً مروی ہے، [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى.
‏‏‏‏ غرابت صرف ابوموسیٰ کی روایت سے ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]