حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ذُكِرَ لِعَبْدِاللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ حَدِيثٌ؛ فَقَالَ: يُحْتَاجُ لِهَذَا أَرْكَانٌ مِنْ آجُرٍّ.
حبان بن موسیٰ کہتے ہیں: عبداللہ بن المبارک سے ایک حدیث ذکر کی گئی تو آپ نے کہا: اس کے لیے تو پختہ اینٹوں کے ستون چاہئیں، [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3958]
قَالَ أَبُو عِيسَى: يَعْنِي أَنَّهُ ضَعَّفَ إِسْنَادَهُ.
ترمذی کہتے ہیں: یعنی ابن مبارک نے اس کی سند کی تضعیف کی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3958]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ تَرَكَ حَدِيثَ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، وَالْحَسَنِ بْنِ دِينَارٍ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَسْلَمِيِّ، وَمُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَعُثْمَانَ الْبُرِّيِّ، وَرَوْحِ بْنِ مُسَافِرٍ، وَأَبِي شَيْبَةَ الْوَاسِطِيِّ، وَعَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ، وَأَيُّوبَ بْنِ خُوطٍ، وَأَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ، وَنَصْرِ بْنِ طَرِيفٍ -هُوَ أَبُو جَزْئٍ- وَالْحَكَمِ. وَحَبِيبٍ الْحَكَمُ رَوَى لَهُ حَدِيثًا فِي كِتَابِ الرِّقَاقِ، ثُمَّ تَرَكَهُ. وَقَالَ: حَبِيبٌ لا أَدْرِي.
وہب بن زمعہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن المبارک نے حسن بن عمارہ، حسن بن دینار، ابراہیم بن محمد اسلمی، مقاتل بن سلیمان، اور عثمان بری، روح بن مسافر، ابوشیبہ واسطی، عمرو بن ثابت، ایوب بن خوط، ایوب بن سوید، ابوجزء نصر بن طریف، حکم اور حبیب کی احادیث ترک کر دی۔ عبداللہ بن المبارک نے حکم کی صرف ایک حدیث کتاب الزہد و الرقاق میں روایت کی پھر اس کو ترک کر دیا۔ اور کہا: حبیب کو میں نہیں جانتا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3958]
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَانَ قَالَ: كَانَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَرَأَ أَحَادِيثَ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ؛ فَكَانَ أَخِيرًا إِذَا أَتَى عَلَيْهَا أَعْرَضَ عَنْهَا، وَكَانَ لايَذْكُرُهُ.
عبدان کہتے ہیں: عبداللہ بن المبارک نے بکر بن خنیس کی احادیث پڑھی تھیں، بعد میں جب وہ ان احادیث پر آتے تو ان سے صرف نظر کرتے، اور بکر کا تذکرہ نہیں کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3958]
قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو وَهْبٍ، قَالَ: سَمَّوْا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ رَجُلا يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ؛ فَقَالَ: لأَنْ أَقْطَعَ الطَّرِيقَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُحَدِّثَ عَنْهُ.
ابووہب کہتے ہیں: لوگوں نے عبداللہ بن المبارک سے حدیث میں ایک متہم بالکذب راوی کا نام لیا تو آپ نے کہا: میں ڈاکہ ڈالوں یہ اس سے بہتر ہے کہ میں اس سے حدیث روایت کروں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3958]
قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ حِزَامٍ، قَال: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ يَقُولُ: لا يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يَرْوِيَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو النَّخَعِيِّ الْكُوفِيِّ.
یزید بن ہارون کہتے ہیں: کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ سلیمان بن عمرو کوفی سے روایت کرے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3958]
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، حَدَّثَنَا أَبُويَحْيَى الْحِمَّانِيُّ،قَال: سَمِعْتُ أَبَاحَنِيفَةَ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْذَبَ مِنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، وَلا أَفْضَلَ مِنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ.
ابویحیی حمانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوحنیفہ کو کہتے سنا: میں نے جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی راوی نہیں دیکھا اور نہ عطاء بن ابی رباح سے افضل کسی کو دیکھا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3958]
قَالَ أَبُو عِيسَى: و سَمِعْت الْجَارُودَ يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: لَوْلا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ حَدِيثٍ، وَلَوْلا حَمَّادٌ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ فِقْهٍ.
جارود کہتے ہیں: میں نے وکیع بن جراح کو یہ کہتے سنا: جابر جعفی نہ ہوتا تو اہل کوفہ بغیر حدیث کے ہوتے، اور حماد بن ابی سلیمان کوفی نہ ہوتے تو اہل کوفہ بغیر فقہ کے ہوتے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3958]
قَالَ أَبُو عِيسَى: و سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ؛ فَذَكَرُوا مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ؛ فَذَكَرُوا فِيهِ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ؛ فَقُلْتُ: فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ؛ فَقَالَ: عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! قُلْتُ: نَعَمْ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَارِكُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ آوَاهُ اللَّيْلُ إِلَى أَهْلِهِ".قَالَ: فَغَضِبَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَقَالَ: اسْتَغْفِرْ رَبَّكَ،اسْتَغْفِرْ رَبَّكَ -مَرَّتَيْنِ-.
ترمذی کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن الحسن کو کہتے سنا: ہم احمد بن حنبل کے پاس تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ کس پر جمعہ فرض ہے؟ بعض تابعی اور تبع تابعی اہل علم سے اس بارے میں اقوال ذکر کئے تو میں نے کہا: اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث ہے، پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے؟ میں نے کہا: ہاں، ہم سے حجاج بن نصیر نے بیان کیا، حجاج سے معارک بن عباد نے اور معارک سے عبداللہ بن سعید مقبری نے، عبداللہ بن سعید نے اپنے والد سعید مقبری سے، اور مقبری ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جمعہ اس شخص پر فرض ہوتا ہے جو رات کو اپنے گھر تک پہنچ جائے۔“ اس پر احمد بن حنبل غصہ ہوئے اور دو بار کہا: اور أستغفر اللہ کہا، اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، اپنے رب سے مغفرت طلب کرو۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3958]
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا فَعَلَ هَذَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لأَنَّهُ لَمْ يُصَدِّقْ هَذَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِضَعْفِ إِسْنَادِهِ، لأَنَّهُ لَمْ يَعْرِفْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ جِدًّا فِي الْحَدِيثِ.
ترمذی کہتے ہیں: احمد بن حنبل نے ایسا اس لیے کیا کہ سند کے ضعف کی وجہ سے یہ حدیث ان کے نزدیک صحیح نہیں تھی، اور آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے ثابت ہونے کا علم نہیں تھا، حجاج بن نصیر کی حدیث میں تضعیف کی گئی ہے، اور عبداللہ بن سعید مقبری کو یحییٰ بن سعید القطان نے حدیث میں بہت ضعیف قرار دیا ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3958]