بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل و مناقب باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 3891 جامع ترمذی
عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ ، يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ ، سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ ، الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عِكْرِمَةَ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ ثِقَةً , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ: مَاتَتْ فُلَانَةُ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَجَدَ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا "، فَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہو گیا، تو وہ سجدہ میں گر گئے، ان سے پوچھا گیا: کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہو سکتی ہے؟ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الصلاة 269 (1197) (تحفة الأشراف: 6037) (حسن)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث یا دیگر احادیث میں اس جیسے سیاق و سباق میں «آیۃ» کا لفظ بطور خوفناک عذاب یا آسمانی مصیبت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جس سے مقصود بندوں کو ڈرانا ہوتا ہے، تو ازواج مطہرات دنیا میں برکت کا سبب تھیں، ان کے اٹھ جانے سے برکت اٹھ جاتی ہے، اور یہ بات خوفناک ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن، صحيح أبي داود (1081) ، المشكاة (1491)
الحكم: حسن، صحيح أبي داود (1081) ، المشكاة (1491)
حدیث نمبر: 3892 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، هَاشِمٌ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ ، كِنَانَةُ ، صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا كِنَانَةُ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ بَلَغَنِي عَنْ حَفْصَةَ , وَعَائِشَةَ كَلَامٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " أَلَا قُلْتِ: فَكَيْفَ تَكُونَانِ خَيْرًا مِنِّي وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ , وَأَبِي هَارُونُ , وَعَمِّي مُوسَى "، وَكَانَ الَّذِي بَلَغَهَا أَنَّهُمْ قَالُوا: نَحْنُ أَكْرَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، وَقَالُوا: نَحْنُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَنَاتُ عَمِّهِ. وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَاشِمٍ الْكُوفِيِّ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، مجھے حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما کی طرف سے ایک (تکلیف دہ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور باپ ہارون ہیں، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں، اس لیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- صفیہ کی اس حدیث کو ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے،
۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15905) (ضعیف الإسناد) (سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد وانظر الحديث (3625) // (3807) //، الرد على الحبشي (35 - 38)
قال الشيخ زبير على زئي
(3892) إسناده ضعيف
هاشم بن سعيد: ضعيف (تقدم:2448) والحديث الآتي (الأصل :3894) يغني عنه
الحكم: ضعيف الإسناد وانظر الحديث (3625) // (3807) //، الرد على الحبشي (35 - 38)
حدیث نمبر: 3893 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ ، مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ ، هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ ، أُمَّ سَلَمَةَ ، فَاطِمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا , فَبَكَتْ، ثُمَّ حَدَّثَهَا , فَضَحِكَتْ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا، قَالَتْ: " أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ , فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وفات پا گئے تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پا جائیں گے، تو (یہ سن کر) میں رونے لگی تھی، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی ۱؎، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 3873 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بعض روایات میں آیا ہے (الفتح: مناقب خدیجہ) کہ دنیا کی عورتوں کی سردار: مریم، پھر فاطمہ پھر خدیجہ، پھر آسیہ ہیں، اور حاکم کی روایت میں ہے کہ جنت کی عورتوں میں سب سے افضل: خدیجہ، فاطمہ، مریم اور آسیہ ہیں، معلوم ہوا کہ یہ چاروں دنیا اور جنت دونوں میں دیگر ساری عورتوں سے افضل ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (6184) ، الصحيحة (2 / 439)
الحكم: صحيح، المشكاة (6184) ، الصحيحة (2 / 439)
حدیث نمبر: 3894 جامع ترمذی
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد , قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ؟ "، فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكِ لَابْنَةُ نَبِيٍّ , وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ , وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ , فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ؟ ثُمَّ قَالَ: اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ رضی الله عنہا کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے، تو وہ رونے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ تو انہوں نے کہا: حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو ایک نبی کی بیٹی ہے، تیرا چچا بھی نبی ہے ۱؎ اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے، پھر آپ نے (حفصہ سے) فرمایا: حفصہ! اللہ سے ڈر۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی صفیہ موسیٰ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، اور ان کے بھائی ہارون بھی نبی تھے، تو باپ اور چچا دونوں نبی ہوئے، ویسے حفصہ بھی ایک (نبی اسماعیل علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھیں، اور اسماعیل کے بھائی اسحاق (چچا) بھی نبی تھے، اور نبی کی زوجیت میں بھی تھیں، اس لحاظ سے دونوں برابر تھیں، صرف اس طرح کے تفاخر سے آپ کو انہیں تنبیہ کرنا مقصود تھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (6183)
الحكم: صحيح، المشكاة (6183)
حدیث نمبر: 3895 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي , وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، مَا أَقَلَّ مَنْ رَوَاهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَرُوِيَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرسلاً بھی آئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف بھذا التمام (تحفة الأشراف: 16919)، وأخرج الجملة الأخیرة ”إذا مات …“ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 97 (4899)، وسنن النسائی/الجنائز 52 (1938)، و مسند احمد (6/180) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ اور اس کے بعد کی دونوں حدیثوں کی اس باب سے کوئی مناسبت نہیں، یہ گویا اس کتاب کی متفرق چھوٹی چھاٹی احادیث کے طور پر یہاں درج کی گئی ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (285)
الحكم: صحيح، الصحيحة (285)
حدیث نمبر: 3896 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، إِسْرَائِيلَ ، الْوَلِيدِ ، زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْهِمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ فَقَسَّمَهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ وَهُمَا يَقُولَانِ: وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ، فَتَثَبَّتُّ حِينَ سَمِعْتُهُمَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْتُهُ , فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ وَقَالَ: " دَعْنِي عَنْكَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ زِيدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے اصحاب میں سے کوئی کسی کی برائی مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں ان کی طرف نکلوں تو میرا سینہ صاف ہو، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا اور آپ نے اسے تقسیم کر دیا، تو میں دو آدمیوں کے پاس پہنچا جو بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: قسم اللہ کی! محمد نے اپنی اس تقسیم سے جو انہوں نے کی ہے نہ رضائے الٰہی طلب کی ہے نہ دار آخرت، جب میں نے اسے سنا تو یہ بات مجھے بری لگی، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: مجھے جانے دو کیونکہ موسیٰ کو تو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا پھر بھی انہوں نے صبر کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأدب 33 (4860) (تحفة الأشراف: 9227) (ضعیف الإسناد) (سند میں زید بن زائدہ لین الحدیث راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد، لكن الشطر الثاني منه في القسمة صحيح // ضعيف الجامع الصغير (6322) //
قال الشيخ زبير على زئي
(3897،3896) إسناده ضعيف / د 4860
الحكم: ضعيف الإسناد، لكن الشطر الثاني منه في القسمة صحيح // ضعيف الجامع الصغير (6322) //
حدیث نمبر: 3897 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلَ ، السُّدِّيِّ ، الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا ". وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی کی کوئی بات مجھے نہ پہنچائے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اس حدیث کا کچھ حصہ اس سند کے علاوہ سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے مرفوعاً آیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني
**
قال الشيخ زبير على زئي
(3897،3896) إسناده ضعيف / د 4860
الحكم: **