بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل و مناقب باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 3861 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي , فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: نَصِيفَهُ يَعْنِي نِصْفَ الْمُدِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے (اجر کے) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- آپ کے قول «نصيفه» سے مراد نصف (آدھا) مد ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3673)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 54 (2541)، سنن ابی داود/ السنة 11 (4658) (تحفة الأشراف: 4001)، و مسند احمد (3/11) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الظلال (988)
الحكم: صحيح الظلال (988)
حدیث نمبر: 3862 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي , اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9662)، و مسند احمد (4/87) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن زیاد مجہول راوی ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: 2901)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف تخريج الطحاوية (471) // (673) //، الضعيفة (2901) // ضعيف الجامع الصغير (1160) //
قال الشيخ زبير على زئي
(3862) إسناده ضعيف
عبدالرحمن بن زياد: اختلفوا في اسمه ولم يو ثقه غير ابن حبان فهو مجهول الحال ولم يثبت عن التزمذي بأنه قال فى حديثه: ”حسن“ ! وقال البخاري : فيه نظر (التاريخ الكبير 131/5 ت 389)
الحكم: ضعيف تخريج الطحاوية (471) // (673) //، الضعيفة (2901) // ضعيف الجامع الصغير (1160) //
حدیث نمبر: 3863 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَزْهَرُ السَّمَّانُ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، خِدَاشٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2702) (ضعیف) (سند میں خداش بن عیاش لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)»
وضاحت
۱؎: کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ والے سے جد بن قیس منافق مراد ہے اس کا اونٹ کھو گیا تھا اس سے کہا گیا آ کر بیعت کر لو تو اس نے کہا: میرا اونٹ مجھے مل جائے، یہ مجھے بیعت کرنے سے زیادہ محبوب ہے (مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے)۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الصحيحة تحت الحديث (2160) // ضعيف الجامع الصغير (4873) //
قال الشيخ زبير على زئي
(3863) إسناده ضعيف
أبو الزبير عنعن (تقدم:927) وتلميذه خداش: لين الحديث (تق:1705)
الحكم: ضعيف الصحيحة تحت الحديث (2160) // ضعيف الجامع الصغير (4873) //
حدیث نمبر: 3864 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا , فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کا ایک غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/فضائل الصحابة 36 (2495/162) (تحفة الأشراف: 2910) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اور اللہ نے بدریوں کی عام مغفرت کا اعلان کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3865 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، عُثْمَانُ بْنُ نَاجِيَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ نَاجِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي يَمُوتُ بِأَرْضٍ إِلَّا بُعِثَ قَائِدًا وَنُورًا لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَهُوَ أَصَحُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے جو بھی کسی سر زمین پر مرے گا تو وہ قیامت کے دن اس سر زمین والوں کا پیشوا اور ان کے لیے نور بنا کر اٹھایا جائے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ سے مروی ہے اور انہوں نے اسے بریدہ رضی الله عنہ کے بیٹے کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1983) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن مسلم ابو طیبہ روایت میں وہم کے شکار ہو جایا کرتے تھے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، الضعيفة (4468) // ضعيف الجامع الصغير (5138) //
قال الشيخ زبير على زئي
(3865) إسناده ضعيف
عثمان بن ناجية: مستور (تق:4522)
الحكم: ضعيف، الضعيفة (4468) // ضعيف الجامع الصغير (5138) //