بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل و مناقب باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3826 جامع ترمذی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ ، أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا أُرَى أَسْمَاءَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ , فَلَا تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ "، فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ , وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (خواب میں) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ رضی الله عنہا سے فرمایا: عائشہ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16243) (حسن)»
وضاحت
۱؎: یعنی اسے چبا کر ان کے منہ میں ڈال دیا جس کے منہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لعاب دہن گیا وہ منہ کتنا مبارک ہو گیا! «ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء» (الجمعة: ۴)۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
(3826) إسناده ضعيف
عبدالله بن المؤمل: ضعيف الحديث (تق: 3648) و حديث مسلم (2146) هو المحفوظ
الحكم: حسن