بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل و مناقب باب: عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3798 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاق ، هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: جَاءَ عَمَّارٌ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمار نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دے دو، مرحبا مرد پاک ذات و پاک صفات کو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (146) (تحفة الأشراف: 10300) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (146)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (146)
حدیث نمبر: 3799 جامع ترمذی
الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ كُوفِيٌّ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ كُوفِيٌّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا خُيِّرَ عَمَّارٌ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ وَهُوَ شَيْخٌ كُوفِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ النَّاسُ لَهُ ابْنٌ يُقَالُ لَهُ: يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثِقَةٌ , رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمار کو جب بھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے اسی کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سب سے بہتر اور حق سے زیادہ قریب ہوتی تھی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبدالعزیز بن سیاہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور یہ ایک کوفی شیخ ہیں اور ان سے لوگوں نے روایت کی ہے، ان کا ایک لڑکا تھا جسے یزید بن عبدالعزیز کہا جاتا تھا، ان سے یحییٰ بن آدم نے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3799]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (148) (تحفة الأشراف: 17396) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ بات عمار رضی الله عنہ کے فطرتاً حق پسند ہونے، اور اللہ کی طرف سے ان کے لیے حسن توفیق پر دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (148)
قال الشيخ زبير على زئي
(3799) ضعيف/ جه 148
حبيب عنعن (تقدم: 241)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (148)
حدیث نمبر: 3800 جامع ترمذی
أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْشِرْ عَمَّارُ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي الْيَسَرِ، وَحُذَيْفَةَ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمار! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں ام سلمہ، عبدالرحمٰن بن عمرو، ابویسر اور حذیفہ رضی الله عنہم احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف، وھو جماعة من الصحابة غیرہ (تحفة الأشراف: 14081) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی گواہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے ہے کہ قتل ہونے کے وقت عمار حق والی جماعت کے ساتھ ہوں گے اور ان کے قاتل اس بابت حق پر نہیں ہوں گے، اور اس حق و ناحق سے مراد اعتقادی (توحید و شرک کا) حق و ناحق نہیں مراد ہے بلکہ اس وقت سیاسی طور پر حق و ناحق پر ہونے کی گواہی ہے، عمار اس وقت علی رضی الله عنہ کے ساتھ جو اس وقت خلیقہ برحق تھے، اور فریق مخالف معاویہ رضی الله عنہ تھے جو علی رضی الله عنہ سے خلافت کے سیاسی مسئلہ پر جنگ کر رہے تھے، اس میں عمار رضی الله عنہ کی شہادت ہوئی تھی، یہ جنگ صفین کا واقعہ ہے اس واقعہ میں معاویہ رضی الله عنہ جو علی رضی الله عنہ سے برسرپیکار ہو گئے تھے، یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی جو معاف ہے، (رضی الله عنہم اجمعین)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (710)
الحكم: صحيح، الصحيحة (710)