بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل و مناقب باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 3758 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: " مَا أَغْضَبَكَ؟ " , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي , فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا: تم غصہ کیوں ہو؟ وہ بولے: اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا (دشمنی) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے، پھر آپ نے فرمایا: اے لوگو! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ۱؎ ہوتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف، وانظر ماتقدم عندہ برقم 3607 (تحفة الأشراف: 11289) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ہاشمی کوفی ضعیف شیعی راوی ہے، کبر سنی کی وجہ سے حافظہ میں تغیر آ گیا تھا، اور دوسروں کی تلقین قبول کرنے لگے تھے، لیکن حدیث کا آخری ٹکڑا ”عم الرجل صنو أبيه“ ثابت ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے 3760، 3761)»
وضاحت
۱؎: حدیث میں «صنو» کا لفظ آیا ہے، «صنو» کی حقیقت یہ ہے کہ کسی درخت کے ایک ہی تنے سے اوپر دو یا تین یا چار شاخیں نکلتی ہیں، ان شاخوں کو آپس میں ایک دوسرے کا «صنو» کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف إلا قوله: " عم الرجل ... " فصحيح، المشكاة (6147) ، الصحيحة (806)
قال الشيخ زبير على زئي
(3758) إسناده ضعيف
يزيد بن أبى زياد: ضعيف (تقدم: 114)
الحكم: ضعيف إلا قوله: " عم الرجل ... " فصحيح، المشكاة (6147) ، الصحيحة (806)
حدیث نمبر: 3759 جامع ترمذی
الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، إِسْرَائِيلَ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَبَّاسُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 5544) (ضعیف) (سند میں عبدا لأعلی بن عامر ضعیف راوی ہیں، الضعیفة 2315)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (6148) ، الضعيفة (2315) // ضعيف الجامع الصغير (3842) //
قال الشيخ زبير على زئي
(3759) إسناده ضعيف / ن 4779 مطولاً
عبد الأعلي الثعبلي : ضعيف كما تقدم (2950)
الحكم: ضعيف، المشكاة (6148) ، الضعيفة (2315) // ضعيف الجامع الصغير (3842) //
حدیث نمبر: 3760 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ فِي الْعَبَّاسِ: " إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ". وَكَانَ عُمَرُ كَلَّمَهُ فِي صَدَقَتِهِ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا: بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10112) (صحیح) (شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، دیکھئے: حدیث نمبر (3761) والصحیحة 806)»
وضاحت
۱؎: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ کو زکاۃ کا مال جمع کرنے کے لیے بھیجا تو کچھ لوگوں نے دینے سے انکار کر دیا، ان میں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس رضی الله عنہ بھی تھے، انہی کے سلسلہ میں آپ نے عمر سے فرمایا: «و أما العباس فھی علي ومثلھا معھا» یعنی جہاں تک میرے چچا عباس کا مسئلہ ہے تو ان کا حق میرے اوپر ہے اور اسی کے مثل مزید اور، ساتھ ہی آپ نے وہ بات بھی کہی جو حدیث میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح بما قبله (3759) ، الإرواء (3 / 348 - 349)
الحكم: صحيح بما قبله (3759) ، الإرواء (3 / 348 - 349)
حدیث نمبر: 3761 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، شَبَابَةُ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ , وَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ , أَوْ مِنْ صِنْوِ أَبِيهِ ". هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عباس اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے ابوالزناد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الزکاة 3 (983)، سنن ابی داود/ الزکاة 21 (1622)، سنن النسائی/الزکاة 15 (2466) (تحفة الأشراف: 13922) (وأخرجہ البخاري في الزکاة (49/ح 1468)، بدون قولہ: ”عم الرجل صنو أبیہ“)، و مسند احمد (2/322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (806) ، صحيح أبي داود (1435) ، الإرواء (3 / 348 - 350)
الحكم: صحيح، الصحيحة (806) ، صحيح أبي داود (1435) ، الإرواء (3 / 348 - 350)
حدیث نمبر: 3762 جامع ترمذی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، مَكْحُولٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: " إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ "، فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءً، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً , وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا، اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عباس رضی الله عنہ سے فرمایا: دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تاکہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اور آپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی، پھر دعا کی: اے اللہ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑے، اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6364) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن، المشكاة (6149)
قال الشيخ زبير على زئي
(3762) إسناده ضعيف
عبدالوهاب عنعن (وهو مدلس انظر طبقات المدلسين3/85) وقال أبو زرعة الرازي فى هذا الحديث وحديث آخر : ” وهذان الحديثان ليسا من حديث ثور“ (سوالات البرذعي ص 497)
الحكم: حسن، المشكاة (6149)