بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سورۃ الاخلاص سے بعض آیات کی تفسیر۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: تفسیر قرآن کریم باب: سورۃ الاخلاص سے بعض آیات کی تفسیر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3364 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَبُو سَعْدٍ هُوَ الصَّغَانِيُّ ، أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ ، الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ هُوَ الصَّغَانِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ {1} اللَّهُ الصَّمَدُ {2} سورة الإخلاص آية 1-2 فَالصَّمَدُ: الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ لَأَنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُولَدُ إِلَّا سَيَمُوتُ، وَلَيْسَ شَيْءٌ يَمُوتُ إِلَّا سَيُورَثُ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمُوتُ وَلَا يُورَثُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 4، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لَهُ شَبِيهٌ وَلَا عِدْلٌ وَلَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے «قل هو الله أحد الله الصمد» کہہ دیجئیے اللہ اکیلا ہے، اللہ بے نیاز ہے (الاخلاص: ۱-۲)، نازل فرمائی، اور «صمد» وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو، اس لیے (اصول یہ ہے کہ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا، «ولم يكن له كفوا أحد» اور نہ اس کا کوئی «کفو» (ہمسر) ہے، راوی کہتے ہیں: «کفو» یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16) (حسن) آیت تک صحیح ہے، اور ”الصمد الذي إالخ) کا سیاق صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ سند میں ابو جعفر الرازی سیٔ الحفظ اور ابو سعید الخراسانی ضعیف ہیں، اور مسند احمد 5/113، 134، اور طبری 30/221 کے طریق سے تقویت پا کر اول حدیث حسن ہے، تراجع الألبانی 559)»
قال الشيخ الألباني
حسن دون قوله: " والصمد الذى ... " ظلال الجنة (663 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبير على زئي
(3364) إسناده ضعيف
أبو سعد محمد بن ميسر ضعيف رمي بالإرحاء (تق:6344) وحديث أبى جعفر عن الربيع بن أنس ضعيف (تقدم:2647) وللحديث شاهد ضعيف عند أبى يعلي (2044)
الحكم: حسن دون قوله: " والصمد الذى ... " ظلال الجنة (663 / التحقيق الثانى)
حدیث نمبر: 3365 جامع ترمذی
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ ، الرَّبِيعِ ، أَبِي الْعَالِيَةِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ آلِهَتَهُمْ، فَقَالُوا: انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ، قَالَ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ السُّورَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعْدٍ، وَأَبُو سَعْدٍ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ اسْمُهُ عِيسَى، وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ وَكَانَ عَبْدًا أَعْتَقَتْهُ امْرَأَةٌ صَابِئَةٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابولعالیہ (رفیع بن مہران) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے (یعنی مشرکین کے) معبودوں کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ ہم سے اپنے رب کا نسب بیان کیجئے، آپ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس یہ سورۃ «قل هو الله أحد» لے کر آئے، پھر انہوں نے اسی طرح حدیث بیان کی، اور اس کی سند میں ابی بن کعب سے روایت کا ذکر نہیں کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ ابوسعد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ابوسعد کا نام محمد بن میسر ہے، اور ابو جعفر رازی کا نام عیسیٰ ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے یہ ایک غلام تھے جنہیں ایک قیدی عورت نے آزاد کیا تھا۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف ظلال الجنة (663 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبير على زئي
(3365) إسناده ضعيف / انظر الحديث السابق:3364
الحكم: ضعيف ظلال الجنة (663 / التحقيق الثاني)