بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سورۃ القیامہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: تفسیر قرآن کریم باب: سورۃ القیامہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3329 جامع ترمذی
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: فَكَانَ يُحَرِّكُ بِهِ شَفَتَيْهِ "، وَحَرَّكَ سُفْيَانُ شَفَتَيْهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يُحْسِنُ الثَّنَاءَ عَلَى مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ خَيْرًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا تو جلدی جلدی زبان چلانے (دہرانے) لگتے تاکہ اسے یاد و محفوظ کر لیں، اس پر اللہ نے آیت «لا تحرك به لسانك لتعجل به» اے نبی!) آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں (القیامۃ: ۱۶)، نازل ہوئی۔ (راوی) اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، (ان کے شاگرد) سفیان نے بھی اپنے ہونٹ ہلا کر دکھائے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ سفیان ثوری موسیٰ بن ابی عائشہ کو اچھا سمجھتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/بدء الوحی 4 (5)، وتفسیر سورة القیامة 1 (4927)، و2 (4928)، و3 (4929)، وفضائل القرآن 28 (5044)، والتوحید 43 (7524)، صحیح مسلم/الصلاة 32 (448)، سنن النسائی/الافتتاح 37 (936) (تحفة الأشراف: 5637)، و مسند احمد (1/343) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3330 جامع ترمذی
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، شَبَابَةُ ، إِسْرَائِيلَ ، ثُوَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ ، ثُوَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ، وَأَكْرَمُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ {22} إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ {23} سورة القيامة آية 22-23 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ مِثْلَ هَذَا مَرْفُوعًا، وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثویر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنتیوں میں کمتر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو جنت میں اپنے باغوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنے خدمت گزاروں کو، اور اپنے (سجے سجائے) تختوں (مسہریوں) کو ایک ہزار سال کی مسافت کی دوری سے دیکھے گا، اور ان میں اللہ عزوجل کے یہاں بڑے عزت و کرامت والا شخص وہ ہو گا جو صبح و شام اللہ کا دیدار کرے گا، پھر آپ نے آیت «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (القیامۃ: ۲۳)، پڑھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے اور کئی راویوں نے یہ حدیث اسی طرح اسرائیل سے مرفوعاً (ہی) روایت کی ہے،
۲- عبدالملک بن ابجر نے ثویر سے، ثویر نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، اور اسے ابن عمر رضی الله عنہما کے قول سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6666) (ضعیف) (سند میں ثویر ضعیف اور رافضی ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) //
قال الشيخ زبير على زئي
(3330) إسناده ضعيف / تقدم:2553
الحكم: ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) //