مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، وَاصِلٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ "، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ "، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: " أَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا:
”سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ صرف اسی ایک ذات نے تمہیں پیدا کیا ہے (اس کا کوئی شریک نہیں ہے)
“۔ میں نے کہا: پھر کون سا گناہ بہت بڑا ہے؟ فرمایا:
”یہ ہے کہ تم اپنے بیٹے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا
“، میں نے کہا: پھر کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا:
”تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3182] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تفسیر البقرة 3 (4477)، والأدب 20 (4761)، والحدود 20 (6811)، والدیات 2 (6861)، والتوحید 40 (7520)، و46 (7532)، صحیح مسلم/الإیمان 37 (86) (الطلاق 50 (2310) (تحفة الأشراف: 9480)، و مسند احمد (1/380، 471، 424، 462) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مؤلف نے اس حدیث کو ارشاد باری تعالیٰ: «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما» (الفرقان: ۶۸) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (2337) ، صحيح أبي داود (2000)
الحكم: صحيح، الإرواء (2337) ، صحيح أبي داود (2000)