بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: تفسیر قرآن کریم باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3119 جامع ترمذی
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَبُو الْوَلِيدِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ، فَقَالَ: " مَثَلُ كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ {24} تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا سورة إبراهيم آية 24 ـ 25، قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ سورة إبراهيم آية 26 قَالَ: هِيَ الْحَنْظَلُ "، قَالَ: فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ أَبَا الْعَالِيَةِ، فَقَالَ: صَدَقَ وَأَحْسَنَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: «كلمة طيبة كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها» ۱؎ آپ نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے، اور آیت «ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار» ۲؎ میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے۔ شعیب بن حبحاب (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (ضعیف) (مرفوعا صحیح نہیں ہے، یہ انس رضی الله عنہ کا قول ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے)»
وضاحت
۱؎: کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ (کھجور کے درخت) کی ہے جس کی جڑ ثابت و (مضبوط) ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے برابر (لگاتار) پھل دیتا رہتا ہے (ابراہیم: ۲۴)۔
۲؎: برے کلمے (بری بات) کی مثال برے درخت جیسی ہے جو زمین کی اوپری سطح سے اکھیڑ دیا جا سکتا ہے جسے کوئی جماؤ (ثبات ومضبوطی) حاصل نہیں ہوتی (ابراہیم: ۲۶)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا
الحكم: صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا
حدیث نمبر: 3120 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَال: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 قَالَ: " فِي الْقَبْرِ إِذَا قِيلَ لَهُ مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت (محکم بات) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے (ابراہیم: ۲۷)، کی تفسیر میں فرمایا: ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا: «من ربك؟» ‏‏‏‏ تمہارا رب، معبود کون ہے؟ «وما دينك؟» ‏‏‏‏ تمہارا دین کیا ہے؟ «ومن نبيك؟» ‏‏‏‏ تمہارا نبی کون ہے؟ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 86 (1369)، وتفسیر سورة ابراہیم 2 (4699)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2871)، سنن ابی داود/ السنة 27 (4750)، سنن النسائی/الجنائز 114 (2059)، سنن ابن ماجہ/الزہد 32 (4269) (تحفة الأشراف: 1762) (وانظر أیضا ماعند د برقم 3212، و4853) (صحیح)»
وضاحت
۱؎ مومن بندہ کہے گا: میرا رب (معبود) اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3121 جامع ترمذی
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، دَاوُدَ بْنِ أبِي هِنْدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: " تَلَتْ عَائِشَةُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ سورة إبراهيم آية 48، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ؟ قَالَ: عَلَى الصِّرَاطِ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَائِشَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے (ابراہیم: ۴۸)، پڑھ کر سوال کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: «على الصراط» پل صراط پر۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المنافقین 2 (2971)، سنن ابن ماجہ/الزہد 33 (4279) (تحفة الأشراف: 17617)، و مسند احمد (6/35، 101، 134، 218)، وسنن الدارمی/الرقاق 88 (2851) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (4279)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (4279)