بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب:۔۔۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل باب:۔۔۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2911 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَبُو النَّضْرِ ، بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ ، لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا، وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَى رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: يَعْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَبَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَتَرَكَهُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بندے کی کوئی بات اتنی زیادہ توجہ اور ہمہ تن گوش ہو کر نہیں سنتا جتنی دو رکعتیں پڑھنے والے بندے کی سنتا ہے، اور بندہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے، اور بندے اللہ عزوجل سے (کسی چیز سے) اتنا قریب نہیں ہوتے جتنا اس چیز سے جو اس کی ذات سے نکلی ہے، ابونضر کہتے ہیں: آپ اس قول سے قرآن مراد لیتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- بکر بن خنیس کے بارے میں ابن مبارک نے کلام کیا ہے اور آخر امر یعنی بعد میں (ان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے) ان سے روایت کرنی چھوڑ دی تھی،
۳- یہ حدیث زید بن ارطاۃ کے واسطہ سے جبیر بن نفیر سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4863)، وانظر مسند احمد (5/268) (ضعیف) (سند میں بکر بن خنیس سے بہت ہی غلطیاں ہوئی ہیں، اور لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (1332) ، الضعيفة (1957) // ضعيف الجامع الصغير (4993) //
قال الشيخ زبير على زئي
(2911) إسناده ضعيف
ليث : ضعيف (تقدم:218)
الحكم: ضعيف، المشكاة (1332) ، الضعيفة (1957) // ضعيف الجامع الصغير (4993) //
حدیث نمبر: 2912 جامع ترمذی
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ ، الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ لَنْ تَرْجِعُوا إِلَى اللَّهِ بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ "، يَعْنِي الْقُرْآنَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے قرآن سے بڑھ کر کوئی اور ذریعہ نہیں پا سکتے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ المراسیل (103) (تحفة الأشراف: 18471) (ضعیف) (جبیر بن نفیر تابعی ہیں، اس لیے یہ روایت مرسل ہے، تراجع الالبانی 193)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الضعيفة أيضا
قال الشيخ زبير على زئي
(2912) إسناده ضعيف
السند مرسل، وذكره أبو داود فى المراسيل (538)
الحكم: ضعيف الضعيفة أيضا