بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سورۃ آل عمران کی فضیلت کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل باب: سورۃ آل عمران کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2883 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيل أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَطَّارِ ، مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيل أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَطَّارِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي الْقُرْآنُ وَأَهْلُهُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَآلُ عِمْرَانَ، قَالَ نَوَّاسٌ: وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ، مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ، قَالَ: تَأْتِيَانِ كَأَنَّهُمَا غَيَابَتَانِ وَبَيْنَهُمَا شَرْقٌ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ سَوْدَاوَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا ظُلَّةٌ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُجَادِلَانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا " وَفِي الْبَابِ، عَنْ بُرَيْدَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ قِرَاءَتِهِ كَذَا، فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الْأَحَادِيثِ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَفِي حَدِيثِ النَّوَّاسِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَدُلُّ عَلَى مَا فَسَّرُوا، إِذْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَهْلُهُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا "، فَفِي هَذَا دَلَالَةٌ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ الْعَمَلِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نواس بن سمعان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قرآن اور قرآن والا جو دنیا میں قرآن پر عمل کرتا ہے دونوں آئیں گے ان کی پیشوائی سورۃ البقرہ اور آل عمران کریں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں دیں، اس کے بعد پھر میں ان سورتوں کو نہ بھولا۔ آپ نے فرمایا: گویا کہ وہ دونوں چھتریاں ہیں، جن کے بیچ میں شگاف اور پھٹن ہیں، یا گویا کہ وہ دونوں کالی بدلیاں ہیں، یا گویا کہ وہ صف بستہ چڑیوں کا سائبان ہیں، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کا لڑ جھگڑ کر دفاع و بچاؤ کر رہی ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
۲- اس باب میں بریدہ اور ابوامامہ سے بھی روایت ہے،
۳- اس حدیث کا بعض اہل علم کے نزدیک معنی و مفہوم یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا۔ اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث کی بعض اہل علم نے یہی تفسیر کی ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا، نواس رضی الله عنہ کی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے، مفسرین کی اس تفسیر کی دلیل اور اس کا ثبوت ملتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس قول «وأهله الذين يعملون به في الدنيا» میں اشارہ ہے کہ قرآن کے آنے سے مراد ان کے اعمال کا ثواب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 42 (805) (تحفة الأشراف: 11713)، و مسند احمد (4/183) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2884 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، الْحُمَيْدِيُّ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي تَفْسِيرِ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ سَمَاءٍ، وَلَا أَرْضٍ أَعْظَمَ مِنْ آيَةِ الْكُرْسِيِّ "، قَالَ سُفْيَانُ: لِأَنَّ آيَةَ الْكُرْسِيِّ هُوَ كَلَامُ اللَّهِ، وَكَلَامُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سفیان بن عیینہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اس حدیث «ما خلق الله من سماء ولا أرض أعظم من آية الكرسي» کی تفسیر میں کہتے ہیں: آیت الکرسی کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق یعنی آسمان و زمین سے بڑھ کر ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (صحیح)»