بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پانچوں نمازوں کی مثال۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: مثل اور کہاوت کا تذکرہ باب: پانچوں نمازوں کی مثال۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2868 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، قُتَيْبَةُ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ الْقُرَشِيُّ ، ابْنِ الْهَادِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ؟ " قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ: " فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا " وَفِي الْبَابِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بھلا بتاؤ تو صحیح، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس نہر میں ہر دن پانچ بار نہائے تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل رہے گا؟ صحابہ نے کہا: اس کے جسم پر تھوڑا بھی میل نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی، ان نمازوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- قتیبہ کہتے ہیں: ہم سے بکر بن مضر قرشی نے ابن الہاد کے واسطہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المواقیت 6 (528)، صحیح مسلم/المساجد 51 (667)، سنن النسائی/الصلاة 7 (463) (تحفة الأشراف: 4998)، و مسند احمد (2/379، 42
6- 427)، وسنن الدارمی/الصلاة 1 (1221) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ نماز کی ادائیگی سے انسان صغیرہ گناہوں سے پاک و صاف ہوتا رہتا ہے، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ سنت کے مطابق نماز ادا کی جائے، اور نماز کو نماز سمجھ کر پڑھا جائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (15)
الحكم: صحيح، الإرواء (15)