بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ناپسندیدہ ناموں کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: اسلامی اخلاق و آداب باب: ناپسندیدہ ناموں کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2835 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَافِعٌ، وَبَرَكَةُ، وَيَسَارٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو أَحْمَدَ ثِقَةٌ حَافِظٌ، وَالْمَشْهُورُ عِنْدَ النَّاسِ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ) رافع، برکت اور یسار نام رکھنے سے منع کر دوں گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اسی طرح اسے ابواحمد نے سفیان سے ابوسفیان نے ابوزبیر سے ابوزبیر نے جابر سے اور انہوں نے عمر سے روایت کی ہے۔ اور ابواحمد کے علاوہ نے سفیان سے سفیان نے ابوزبیر سے اور ابوزبیر نے جابر سے جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے،
۳- ابواحمد ثقہ ہیں حافظ ہیں،
۴- لوگوں میں یہ حدیث «عن جابر عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» مشہور ہے اور اس حدیث میں «عن عمر» (عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے) کی سند سے کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (وراجع صحیح مسلم/الآدب 2 (2138) (تحفة الأشراف: 10423) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3829)
قال الشيخ زبير على زئي
(2835) إسناده ضعيف / جه 3729
سفيان الثوري و أبو الزبير (تقدما:10 ،746) و أحاديث مسلم (2136 ،2138) و أبي دواد (4960) تغني عن هذا الحديث
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3829)
حدیث نمبر: 2836 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةَ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ رَبَاحٌ وَلَا أَفْلَحُ وَلَا يَسَارٌ وَلَا نَجِيحٌ "، يُقَالُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَيُقَالُ: " لَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے غلام کا نام رباح، افلح، یسار اور نجیح نہ رکھو (کیونکہ) پوچھا جائے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ تو کہا جائے گا: نہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الآداب 2 (2137)، سنن ابی داود/ الأدب 70 (4958، 4959)، سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (3730) (تحفة الأشراف: 4612)، وسنن الدارمی/الاستئذان 61 (2738) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «رباح» فائدہ دینے والا «افلح» فلاح والا «یسار» آسانی «نجیح» کامیاب رہنے والا، ان ناموں کے رکھنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ اگر کسی سے پوچھا جائے: کیا «افلح» یہاں ہے اور جواب میں کہا جائے کہ نہیں تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3630)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3630)
حدیث نمبر: 2837 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ "، قَالَ سُفْيَانُ: شَاهَانْ شَاهْ، وَأَخْنَعُ يَعْنِي أَقْبَحُ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدتر نام اس شخص کا ہو گا جس کا نام «ملک الاملاک» ہو گا، سفیان کہتے ہیں: «ملک الاملاک» کا مطلب ہے: شہنشاہ۔ اور «اخنع» کے معنی «اقبح» ہیں یعنی سب سے بدتر اور حقیر ترین۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأدب 114 (6205)، صحیح مسلم/الآداب 4 (2143)، سنن ابی داود/ الأدب 70 (4961) (تحفة الأشراف: 13672)، و مسند احمد (2/244) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (914)
الحكم: صحيح، الصحيحة (914)