بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: اسلامی اخلاق و آداب باب: زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2815 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ:. ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (مردوں کو) زعفرانی رنگ کے استعمال سے منع فرمایا ہے، مردوں کے لیے زعفران کے استعمال کی کراہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد زعفران کی خوشبو نہ لگائیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/اللباس 33 (5846)، صحیح مسلم/اللباس 23 (2101)، سنن ابی داود/ الترجل8 (4179)، سنن النسائی/الحج 43 (2707)، وا الزینة 73 (5258) (تحفة الأشراف: 1011) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2816 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبَا حَفْصِ بْنَ عُمَرَ ، يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا مُتَخَلِّقًا، قَالَ: " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ بَعْضُهُمْ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ عَلِيٌّ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: مَنْ سَمِعَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَدِيمًا فَسَمَاعُهُ صَحِيحٌ، وَسَمَاعُ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ صَحِيحٌ، إِلَّا حَدِيثَيْنِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، قَالَ شُعْبَةُ: سَمِعْتُهُمَا مِنْهُ بِآخِرَةٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: يُقَالُ إِنَّ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ كَانَ فِي آخِرِ أَمْرِهِ قَدْ سَاءَ حِفْظُهُ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَمَّارٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَأَنَسٍ، وَأَبُو حَفْصٍ هُوَ أَبُو حَفْصِ بْنُ عُمَرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- بعض لوگوں نے عطا بن سائب سے اس حدیث کی اسناد میں اختلاف کیا ہے،
۳- علی (علی ابن المدینی) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے کہ جس نے عطاء بن سائب سے ان کی زندگی کے پرانے (پہلے) دور میں سنا ہے تو اس کا سماع صحیح ہے اور شعبہ اور سفیان ثوری کا عطاء بن سائب سے سماع صحیح ہے مگر دو حدیثیں جو عطاء سے زاذان کے واسطہ سے مروی ہیں تو وہ صحیح نہیں ہیں،
۴- شعبہ کہتے ہیں میں نے ان دونوں حدیثوں کو عطاء سے ان کی عمر کے آخری دور میں سنا ہے۔ (اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے)،
۵- کہا جاتا ہے کہ عطاء بن سائب کا حافظہ ان کے آخری دور میں بگڑ گیا تھا،
۶- اس باب میں عمار، ابوموسیٰ، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الزینة 34 (5124) (تحفة الأشراف: 11849)، و مسند احمد (4/171، 173) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو حفص مجہول راوی ہے)»
وضاحت
۱؎: «خلوق» : ایک قسم کی خوشبو ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
(2816) إسناده ضعيف / ن 5124 ، 5125
أبو حفص: مجهول (تق:3279)
الحكم: ضعيف الإسناد