بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ایسی مجلس پر سلام جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہوں۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام باب: ایسی مجلس پر سلام جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہوں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2702 جامع ترمذی
يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ بِمَجْلِسٍ وَفِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسامہ بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور یہود دونوں تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تفسیر آل عمران 15 (4566)، والمرضی 15 (5663)، والأدب 115 (6207)، والاستئذان 20 (6254)، صحیح مسلم/الجھاد 40 (1798) (تحفة الأشراف: 109)، و مسند احمد (5/203) (کلہم سوی المؤلف في سیاق طویل فیہ قصة) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ ایسی مجلس جس میں مسلمان اور کافر دونوں موجود ہوں، اس میں مسلمانوں کو اپنا مخاطب سمجھ کر انہیں السلام علیکم کہنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح