يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ بِمَجْلِسٍ وَفِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسامہ بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور یہود دونوں تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2702] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تفسیر آل عمران 15 (4566)، والمرضی 15 (5663)، والأدب 115 (6207)، والاستئذان 20 (6254)، صحیح مسلم/الجھاد 40 (1798) (تحفة الأشراف: 109)، و مسند احمد (5/203) (کلہم سوی المؤلف في سیاق طویل فیہ قصة) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ ایسی مجلس جس میں مسلمان اور کافر دونوں موجود ہوں، اس میں مسلمانوں کو اپنا مخاطب سمجھ کر انہیں السلام علیکم کہنا چاہیئے۔
الحكم: صحيح