بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سلام بھیجنے اور اسے پہنچانے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام باب: سلام بھیجنے اور اسے پہنچانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2693 جامع ترمذی
عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ "، قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , وَفِي الْبَابِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ أَيْضًا، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں بنی نمیر کے ایک شخص سے بھی روایت ہے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں،
۳- زہری نے بھی یہ حدیث ابوسلمہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (2217)، وفضائل الصحابة 30 (3768)، والأدب 111 (6201)، والاستئذان 16 (6249)، و19 (6253)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2447)، سنن ابی داود/ الأدب 166 (5232)، سنن النسائی/عشرة النساء 3 (9363)، سنن ابن ماجہ/الأدب 12 (3695) (تحفة الأشراف: 17727)، و مسند احمد (6/146، 150، 208، 224)، وسنن الدارمی/الاستئذان 10 (2690) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غائبانہ سلام کسی شخص کے واسطہ سے پہنچے یا کسی خط میں لکھ کر آئے تو اس کا جواب فوری طور پر دینا چاہیئے۔ اور اسی طرح دینا چاہیئے جیسے اوپر ذکر ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح