بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: علم اور فہم دین باب: عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 2681 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقِيهٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک فقیہ (عالم) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المقدمة 17 (222) (تحفة الأشراف: 6395) (موضوع) (سند میں روح بن جناح بہت ہی ضعیف ہے، بلکہ وضع سے متہم ہے)»
قال الشيخ الألباني
موضوع، ابن ماجة (222) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (41) ، المشكاة (217) ، ضعيف الجامع (3987) //
قال الشيخ زبير على زئي
(2681) إسناده ضعيف جدًا / جه 222
روح بن جناح : ضعيف اتهمه ابن حبان (تق: 1961)
الحكم: موضوع، ابن ماجة (222) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (41) ، المشكاة (217) ، ضعيف الجامع (3987) //
حدیث نمبر: 2682 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، قَيْسِ بْنِ كَثِيرٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ ، كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ الْمَدِينَةِ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَهُوَ بِدِمَشْقَ , فَقَالَ: مَا أَقْدَمَكَ يَا أَخِي؟ فَقَالَ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَا جِئْتَ لِحَاجَةٍ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: مَا جِئْتُ إِلَّا فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، وَلَيْسَ هُوَ عِنْدِي بِمُتَّصِلٍ هَكَذَا , حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ خِدَاشٍ , وَرَأْيُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيل هَذَا أَصَحُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قیس بن کثیر کہتے ہیں کہ ایک شخص مدینہ سے ابو الدرداء رضی الله عنہ کے پاس دمشق آیا، ابوالدرداء رضی الله عنہ نے اس سے کہا: میرے بھائی! تمہیں یہاں کیا چیز لے کر آئی ہے، اس نے کہا: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں، ابو الدرداء نے کہا: کیا تم کسی اور ضرورت سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا تم تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں تو صرف اس حدیث کی طلب و تلاش میں آیا ہوں، ابو الدرداء نے کہا: (اچھا تو سنو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالب (علم) کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ہم عاصم بن رجاء بن حیوہ کی روایت کے سوا کسی اور طریقہ سے اس حدیث کو نہیں جانتے، اور اس حدیث کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے۔ اسی طرح انہیں اسناد سے محمود بن خداش نے بھی ہم سے بیان کی ہے،
۲- یہ حدیث عاصم بن رجاء بن حیوہ نے بسند «داود بن جميل عن كثير بن قيس عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» روایت کی ہے۔ اور یہ حدیث محمود بن خداش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور محمد بن اسماعیل بخاری کی رائے ہے کہ یہ زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ العلم 1 (3641)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 17 (223) (تحفة الأشراف: 10958)، وسنن الدارمی/المقدمة 32 (354) (صحیح) (سند میں کثیر بن قیس، یا قیس بن کثیر ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: زہد وکیع رقم 519)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علماء و محدثین بہت بڑی فضیلت کے حامل ہیں، حصول علم کے لیے دور دراز کا سفر درکار ہے، یہ سفر خالص علم دین کی نیت سے ہو کوئی دنیوی غرض اس کے ساتھ شامل نہ ہو، علم دین حاصل کرنے والے کے لیے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے، کائنات کی ساری مخلوق اس کے لیے مغفرت طلب کرتی ہیں، علماء انبیاء کے حقیقی وارث ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (223)
قال الشيخ زبير على زئي
(2682) إسناده ضعيف / د 3641، جه 223
قيس بن كثير هو كثير بن قيس وهو ضعيف (تق: 5624) وللحديث شواهد ضعيفة
الحكم: صحيح، ابن ماجة (223)
حدیث نمبر: 2683 جامع ترمذی
هَنَّادٌ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، ابْنِ أَشْوَعَ ، يَزِيدَ بْنِ سَلَمَةَ الْجُعْفِيِّ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سَلَمَةَ الْجُعْفِيِّ، قَالَ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا أَخَافُ أَنْ يُنْسِيَنِي أَوَّلَهُ آخِرُهُ فَحَدِّثْنِي بِكَلِمَةٍ تَكُونُ جِمَاعًا، قَالَ: " اتَّقِ اللَّهَ فِيمَا تَعْلَمُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَهُوَ عِنْدِي مُرْسَلٌ، وَلَمْ يُدْرِكْ عِنْدِي ابْنُ أَشْوَعَ يَزِيدَ بْنَ سَلَمَةَ، وَابْنُ أَشْوَعَ اسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ أَشْوَعَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یزید بن سلمہ جعفی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے بہت سی حدیثیں آپ سے سنی ہیں، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں بعد کی حدیثیں شروع کی حدیثوں کو بھلا نہ دیں، آپ مجھے کوئی ایسا کلمہ (کوئی ایسی بات) بتا دیجئیے جو دونوں (اول و آخر) کو ایک ساتھ باقی رکھنے کا ذریعہ بنے۔ آپ نے فرمایا: جو کچھ بھی تم جانتے ہو ان کے متعلق اللہ کا خوف و تقویٰ ملحوظ رکھو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث ایسی ہے جس کی سند متصل نہیں ہے، یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے۔
۲- میرے نزدیک ابن اشوع نے یزید بن سلمی (کے دور) کو نہیں پایا ہے،
۳- ابن اشوع کا نام سعید بن اشوع ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11830) (ضعیف) (سعید بن اشوع کا سماع یزید بن سلمہ رضی الله عنہ سے نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی جن چیزوں سے تمہیں روکا گیا ہے ان سے باز رہو، اور جن چیزوں پر عمل کا حکم دیا گیا ہے ان پر عمل جاری رکھو، ایسا کرنا تمہارے لیے حدیثوں کے حفظ کے تعلق سے بہتر ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، الضعيفة (1696) // ضعيف الجامع الصغير (108) //
قال الشيخ زبير على زئي
(2683) إسناده ضعيف
السند منقطع كما بينه المصنف رحمه الله
الحكم: ضعيف، الضعيفة (1696) // ضعيف الجامع الصغير (108) //
حدیث نمبر: 2684 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، خَلَفُ بْنُ أَيُّوبَ الْعَامِرِيُّ ، عَوْفٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ أَيُّوبَ الْعَامِرِيُّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُنَافِقٍ: حُسْنُ سَمْتٍ، وَلَا فِقْهٌ فِي الدِّينِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ عَوْفٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ خَلَفِ بْنِ أَيُّوبَ الْعَامِرِيِّ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَرْوِي عَنْهُ غَيْرَ أَبِي كُرَيْبٍ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ، وَلَا أَدْرِي كَيْفَ هُوَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: منافق میں دو خصلتیں (صفتیں) جمع نہیں ہو سکتی ہیں: حسن اخلاق اور دین کی سمجھ۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- ہم عوف کی اس حدیث کو صرف شیخ خلف بن ایوب عامری کی روایت سے جانتے ہیں، اور ابوکریب محمد بن علاء کے سوا کسی کو ہم نہیں جانتے جس نے خلف بن ایوب عامری سے روایت کی ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسے شخص ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14487) (صحیح) (دیکھئے: الصحیحة 278، و تراجع الألبانی 468)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (219 / التحقيق الثاني) ، الصحيحة (278)
قال الشيخ زبير على زئي
(2684) إسناده ضعيف
خلف بن أيوب صدوق مبتدع ، حدث عن عوف و قيس بمناكير ، انظر الضعفاء للعقيلي (24/2 قاله العقيلي) وللحديث شواهد ضعيفة
الحكم: صحيح، المشكاة (219 / التحقيق الثاني) ، الصحيحة (278)
حدیث نمبر: 2685 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ ، الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا: عَابِدٌ وَالْآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْض حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ , قَالَ: سَمِعْت أَبَا عَمَّارٍ الْحُسَيْنَ بْنَ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيَّ , يَقُولُ: سَمِعْتُ الْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ , يَقُولُ: عَالِمٌ عَامِلٌ مُعَلِّمٌ يُدْعَى كَبِيرًا فِي مَلَكُوتِ السَّمَوَاتِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ باہلی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے،
۲- فضیل بن عیاض کہتے ہیں «ملكوت السموات» (عالم بالا) میں عمل کرنے والے عالم اور معلم کو بہت بڑی اہمیت و شخصیت کا مالک سمجھا اور پکارا جاتا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4907) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (213 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب (1 / 60)
الحكم: صحيح، المشكاة (213 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب (1 / 60)
حدیث نمبر: 2686 جامع ترمذی
عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ الْبَصْرِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، دَرَّاجٍ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَنْ يَشْبَعَ الْمُؤْمِنُ مِنْ خَيْرٍ يَسْمَعُهُ حَتَّى يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجَنَّةُ " , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مومن بھلائی سے ہرگز آسودہ نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے آخری انجام جنت میں پہنچ جاتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4056) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (216) // والصواب (222) ، ضعيف الجامع الصغير (4783) //
الحكم: ضعيف، المشكاة (216) // والصواب (222) ، ضعيف الجامع الصغير (4783) //
حدیث نمبر: 2687 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَدَنِيُّ الْمَخْزُومِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کر لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۳- ابراہیم بن فضل مدنی مخزومی حدیث بیان کرنے میں حفظ کے تعلق سے کمزور مانے جاتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الزہد 15 (4169) (تحفة الأشراف: 12940) (ضعیف جدا) (سند میں ابراہیم بن الفضل المخزومی متروک راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا (216) // كذا الأصل والصواب: أنه رقم " مشكاة المصابيح " وهو في " ضعيف الجامع الصغير " برقم (4302) //
قال الشيخ زبير على زئي
(2687) إسناده ضعيف جدًا /جه 4169
إبراهيم بن الفضل : متروك (تق: 228)
الحكم: ضعيف جدا (216) // كذا الأصل والصواب: أنه رقم " مشكاة المصابيح " وهو في " ضعيف الجامع الصغير " برقم (4302) //