بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: علم اور فہم دین باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2659 جامع ترمذی
أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ کی نسبت کی تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المقدمة 4 (30)، وانظر أیضا ماتقدم برقم 2257 (تحفة الأشراف: 9212)، و مسند احمد (1/389، 401، 402، 405، 436، 453) (صحیح متواتر)»
وضاحت
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا گناہ عظیم ہے، اسی لیے ضعیف اور موضوع روایات کا علم ہو جانے کے بعد انہیں بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے، یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت آپ پر جھوٹ باندھتے ہوئے کی جائے یا آپ کے لیے کی جائے دونوں صورتیں گناہ عظیم کا باعث ہیں، اس سے ان لوگوں کے باطل افکار کی تردید ہو جاتی ہے جو عبادت کی ترغیب کے لیے فضائل کے سلسلہ میں وضع احادیث کے جواز کے قائل ہیں، اللہ رب العالمین ایسے فتنے سے ہمیں محفوظ رکھے، آمین۔
قال الشيخ الألباني
صحيح متواتر، ابن ماجة (30)
الحكم: صحيح متواتر، ابن ماجة (30)
حدیث نمبر: 2660 جامع ترمذی
إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ يَلِجُ فِي النَّارِ " , وفي الباب عن أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَالزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَنَسٍ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَمُعَاوِيَةَ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي مُوسَى الْغَافِقِيِّ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَالْمُنْقَعِ، وَأَوْسٍ الثَّقَفِيِّ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، أَثْبَتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَقَالَ وَكِيعٌ: لَمْ يَكْذِبْ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ فِي الْإِسْلَامِ كَذْبَةً.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ نہ باندھو کیونکہ مجھ پر جھوٹ باندھنے والا جہنم میں داخل ہو گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، زبیر، سعید بن زید، عبداللہ بن عمرو، انس، جابر، ابن عباس، ابوسعید، عمرو بن عبسہ، عقبہ بن عامر، معاویہ، بریدہ، ابوموسیٰ، ابوامامہ، عبداللہ بن عمر، مقنع اور اوس ثقفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2660]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العلم 38 (106)، صحیح مسلم/المقدمة 2 (1)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 4 (31) (تحفة الأشراف: 10087)، و مسند احمد (1/83، 123، 150) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2661 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتَهُ مِنَ النَّارِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے متعلق جھوٹی بات کہی، (انس کہتے ہیں) میرا خیال ہے کہ آپ نے «من كذب علي» کے بعد «متعمدا» کا لفظ بھی کہا یعنی جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، تو ایسے شخص کا ٹھکانا جہنم ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ یعنی زہری کی اس روایت سے جسے وہ انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں،
۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے انس رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العلم 38 (108)، صحیح مسلم/المقدمة 2 (2)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 4 (32) (تحفة الأشراف: 1525) (صحیح متواتر)»
قال الشيخ الألباني
صحيح متواتر انظر ما قبله (2660)
الحكم: صحيح متواتر انظر ما قبله (2660)