مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، أَبِيهِ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نِصْفَ النَّهَارِ، قُلْنَا: مَا بَعَثَ إِلَيْهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا لِشَيْءٍ سَأَلَهُ عَنْهُ؟ فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: نَعَمْ سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ " , وفي الباب عن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے نکلے (لوٹے)، ہم نے کہا: مروان کو ان سے کوئی چیز پوچھنا ہو گی تبھی ان کو اس وقت بلا بھیجا ہو گا، پھر ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے ہم سے کئی چیزیں پوچھیں جسے ہم نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا۔ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو مجھ سے کوئی حدیث سنے پھر اسے یاد رکھ کر اسے دوسروں کو پہنچا دے، کیونکہ بہت سے احکام شرعیہ کا علم رکھنے والے اس علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو اس سے زیادہ ذی علم اور عقلمند ہوتے ہیں۔ اور بہت سے شریعت کا علم رکھنے والے علم تو رکھتے ہیں، لیکن فقیہہ نہیں ہوتے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- زید بن ثابت کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل، جبیر بن مطعم، ابو الدرداء اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2656] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ العلم 10 (3660)، سنن ابن ماجہ/المقدمة: 18 (230) (تحفة الأشراف: 3694)، و مسند احمد (1/437)، و (5/183)، وسنن الدارمی/المقدمة 24 (235) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں یہ ترغیب ہے کہ علم کو حاصل کر کے اسے اچھی طرح محفوظ رکھا جائے اور اسے دوسروں تک پہنچایا جائے کیونکہ بسا اوقات پہنچانے والے سے کہیں زیادہ ذی علم اور عقلمند وہ شخص ہو سکتا ہے جس تک علم دین پہنچایا جا رہا ہے، گویا دعوت و تبلیغ کا فریضہ برابر جاری رہنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (230)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (230)