بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مومن کو گالی دینا فسق ہے۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: ایمان و اسلام باب: مومن کو گالی دینا فسق ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2634 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ الْوَاسِطِيُّ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِتَالُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ " , وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا اپنے کسی مسلمان بھائی سے جنگ کرنا کفر ہے اور اس سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے کئی سندوں سے آئی ہے،
۳- اس باب میں سعد اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 1983) (تحفة الأشراف: 9360) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح وقد مضى (2066) سند آخر عنه
الحكم: صحيح وقد مضى (2066) سند آخر عنه
حدیث نمبر: 2635 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، زُبَيْدٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: قِتَالُهُ كُفْرٌ لَيْسَ بِهِ كُفْرًا مِثْلَ الِارْتِدَادِ وَالْحُجَّةُ عَنِ الإِسْلامِ، فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قُتِلَ مُتَعَمَّدًا فَأَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا عَفَوْا "، وَلَوْ كَانَ الْقَتْلُ كُفْرًا لَوَجَبَ الْقَتْلُ وَلَمْ يَصِحَّ الْعَفْوُ , وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَطَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا: كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ، وَفُسُوقٌ دُونَ فُسُوقٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی گلوچ دینا فسق ہے، اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- حدیث کے الفاظ «قتاله كفر» کا معنی و مراد یہ ہے کہ اسود عنسی کے ارتداد کے کفر جیسا کفر نہیں ہے اور اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دیا گیا ہو تو اس مقتول کے اولیا و وارثین کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ چاہیں تو مقتول کے قاتل کو قصاص میں قتل کر دیں اور چاہیں تو اسے معاف کر دیں اور چھوڑ دیں۔ اگر یہ قتل کفر (حقیقی) کے درجہ میں ہوتا تو پھر قاتل کا قتل واجب ہو جاتا،
۴- ابن عباس، طاؤس، عطاء اور دوسرے بہت سے اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ کفر تو ہے لیکن کمتر درجے کا کفر ہے، یہ فسق تو ہے لیکن چھوٹے درجے کا فسق ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 1983 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح وهو مكرر الحديث (2066)
الحكم: صحيح وهو مكرر الحديث (2066)