بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: منافق کی پہچان کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: ایمان و اسلام باب: منافق کی پہچان کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2631 جامع ترمذی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو سُهَيْلٍ هُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاسْمُهُ: نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَصْبَحِيُّ الْخَوْلَانِيُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 14341) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں ایک منافق کی جو خصلتیں بیان ہوئی ہیں، بدقسمتی سے آج مسلمانوں کی اکثریت اس عملی نفاق میں مبتلا ہے، مسلمان دنیا بھر میں جو ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں اس میں ان کے اسی منافقانہ کردار اور اخلاق و عمل کا دخل ہے، منافق وہ ہے جو اپنی زبان سے اہل اسلام کے سامنے اسلام کا اظہار کرے، لیکن دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد رکھے، یہ اعتقادی نفاق ہے، وحی الٰہی کے بغیر اس کا پہچاننا اور جاننا ناممکن ہے، حدیث میں مذکورہ خصلتیں عملی نفاق کی ہیں، اعتقادی نفاق کفر ہے، جب کہ عملی نفاق کفر نہیں ہے تاہم یہ بھی بہت خطرناک ہے جس سے بچنا چاہیئے، رب العالمین مسلمانوں کو ہدایت بخشے۔ آمین
قال الشيخ الألباني
صحيح إيمان أبي عبيد ص (95)
الحكم: صحيح إيمان أبي عبيد ص (95)
حدیث نمبر: 2632 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا، وَإِنْ كَانَتْ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ فِيهِ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے اور جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 24 (34)، والمظالم 17 (2459)، والجزیة 17 (2178)، صحیح مسلم/الإیمان 25 (58)، سنن ابی داود/ السنة 16 (4688)، سنن النسائی/الإیمان 20 (5023) (تحفة الأشراف: 8931)، و مسند احمد (2/189، 198) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2633 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو عَامِرٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِي النُّعْمَانِ ، أَبِي وَقَّاصٍ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ وَيَنْوِي أَنْ يَفِيَ بِهِ فَلَمْ يَفِ بِهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ، وَلَا يُعْرَفُ أَبُو النُّعْمَانِ وَلَا أَبُو وَقَّاصٍ وَهُمَا مَجْهُولَانِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ (کسی عذر و مجبوری سے) پورا نہ کر سکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اس کی اسناد قوی نہیں ہے،
۳- علی بن عبدالاعلی ثقہ ہیں، ابونعمان اور ابووقاص غیر معروف ہیں اور دونوں ہی مجہول راوی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأدب 90 (4995) (تحفة الأشراف: 3693) (ضعیف) (مولف نے وجہ بیان کر سنن الدارمی/ ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی ایسا شخص منافقین کے زمرہ میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کی نیت صالح تھی اور عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (4881) ، الضعيفة (1447) // ضعيف الجامع الصغير (723) //
قال الشيخ زبير على زئي
(2633) إسناده ضعيف / د 4995
الحكم: ضعيف، المشكاة (4881) ، الضعيفة (1447) // ضعيف الجامع الصغير (723) //