بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب:۔۔۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: ایمان و اسلام باب:۔۔۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2623 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی (اور خوش) ہوا اس نے ایمان کا مزہ پا لیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإیمان 11 (34) (تحفة الأشراف: 5127)، و مسند احمد (1/208) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی جو اللہ ہی سے ہر چیز کا طالب ہوا، اسلام کی راہ کو چھوڑ کر کسی دوسری راہ پر نہیں چلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر اس نے عمل کیا تو ایسے شخص کو ایمان کی مٹھاس مل کر رہے گی، کیونکہ اس کا دل ایمان سے پر ہو گا، اور ایمان اس کے اندر پورے طور پر رچا بسا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2624 جامع ترمذی
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ طَعْمَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس میں تین خصلتیں ہوں گی اسے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت مل کر رہے گی۔ (۱) جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ (۲) وہ جس کسی سے بھی محبت کرے تو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے، (۳) کفر سے اللہ کی طرف سے ملنے والی نجات کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اس طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں گرنا ناپسند کرتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- قتادہ نے بھی یہ حدیث انس کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 9 (16) و 14 (21)، والأدب 42 (6041)، ووالإکراہ 1 (6941)، صحیح مسلم/الإیمان 15 (43)، سنن النسائی/الإیمان 2 (4990)، و 3 (4991)، سنن ابن ماجہ/الفتن 23 (4033) (تحفة الأشراف: 946)، و مسند احمد (3/103، 114، 172، 174، 230، 248، 275، 288) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (4033)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (4033)