وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشِ ، عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ ، أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ مِنْ بَعْدِهِمْ يَتَسَمَّنُونَ وَيُحِبُّونَ السِّمَنَ يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، وَأَصْحَابُ الْأَعْمَشِ إِنَّمَا رَوَوْا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا:
”سب سے اچھے لوگ میرے زمانہ کے ہیں (یعنی صحابہ)، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی تابعین)، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی اتباع تابعین)
۱؎، آپ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا ہونا چاہیں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دیں گے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اعمش کے واسطہ سے علی بن مدرک کی روایت سے غریب ہے،
۲- اعمش کے دیگر شاگردوں نے
«عن الأعمش عن هلال بن يساف عن عمران بن حصين» کی سند سے روایت کی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2302] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 2221) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے صحابہ کرام کی فضیلت تابعین پر، اور تابعین کی فضیلت اتباع تابعین پر ثابت ہوتی ہے۔
۲؎: ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ لفظ دو یا تین بار دہرایا، اگر تین بار دہرایا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے خود اپنا زمانہ مراد لیا، پھر صحابہ کا پھر تابعین کا، پھر اتباع تابعین کا، اور اگر آپ نے صرف دو بار فرمایا تو اس کا وہی مطلب ہے جو ترجمہ کے اندر قوسین میں واضح کیا گیا ہے۔
۳؎: اس حدیث سے از خود شہادت دینے کی مذمت ثابت ہوتی ہے، جب کہ حدیث نمبر ۲۱۹۵ سے اس کی مدح و تعریف ثابت ہے، تعارض اس طرح دفع ہو جاتا ہے کہ مذمت مطلقاً اور از خود شہادت پیش کرنے کی نہیں بلکہ جلدی سے ایسی شہادت دینے کی وجہ سے ہے جس سے جھوٹ ثابت کر سکیں اور باطل طریقہ سے کھا پی سکیں اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اسے ہضم کر سکں، معلوم ہوا کہ حقوق کے تحفظ کے لیے دی گئی شہادت مقبول اور بہتر وعمدہ ہے جب کہ حقوق کو ہڑپ کر جانے کی نیت سے دی گئی شہادت قبیح اور بری ہے۔ قال الشيخ الألباني
صحيح مضى (2334)
الحكم: صحيح مضى (2334)