بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: خواب کے آداب و احکام باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2284 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الْعِلْمَ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَخُزَيْمَةَ، وَالطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَجَابِرٍ، قَالَ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: میں سویا ہوا تھا کہ اس دوران میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اس سے پیا پھر اپنا جوٹھا عمر بن خطاب کو دے دیا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ فرمایا: علم سے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر کی حدیث صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ، ابن عباس، عبداللہ بن سلام، خزیمہ، طفیل بن سخبرہ، ابوامامہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العلم 22 (82)، وفضائل الصحابة 6 (3681)، والتعبیر 15 (7006)، و 16 (7007)، و 34 (7027)، و 37 (7032)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2391)، ویأتي عند المؤلف في المناقب 18 (3687) (تحفة الأشراف: 6700) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: علم سے اس کی تعبیر بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح دودھ میں بکثرت فائدے ہیں اور رب العالمین اسے گوبر اور خون کے درمیان سے نکالتا ہے اسی طرح علم کے فوائد بے انتہا ہیں، اسے بھی رب العالمین شک اور جہالت کے درمیان سے نکالتا ہے پھر اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2285 جامع ترمذی
الْحُسَيْنُ بْنُ مُحمَّدٍ الْجُرَيْريُّ الْبَلْخِيُّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، بَعْضِ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحمَّدٍ الْجُرَيْريُّ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ، فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الدِّينَ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا دیکھا: لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، بعض کی قمیص چھاتی تک پہنچ رہی تھی اور بعض کی اس سے نیچے تک پہنچ رہی تھی، پھر میرے سامنے عمر کو پیش کیا گیا ان کے جسم پر جو قمیص تھی وہ اسے گھسیٹ رہے تھے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: دین سے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف وانظر مابعدہ (تحفة الأشراف: 15529) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی عمر رضی الله عنہ اپنے دین میں اس طرح کامل ہیں اور اسے اس طرح مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے کہ عمر رضی الله عنہ کا دین ان کے لیے اٹھتے، بیٹھتے، سوتے جاگتے ایک محافظ کی طرح ہے، جس طرح قمیص جسم کی حفاظت کرتی ہے گویا عمر رضی الله عنہ دینی اعتبار سے اور لوگوں کی بنسبت بہت آگے ہیں اور ان کے دین سے جس طرح فائدہ پہنچ رہا ہے اسی طرح ان کے مرنے کے بعد لوگ ان کے دینی کاموں اور ان کے چھوڑے ہوئے اچھے آثار سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2286 جامع ترمذی
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَهَذَا أَصَحُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی جیسی اور اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 15 (23)، ومناقب الصحابة 6 (3691)، والتعبیر 17 (7008)، و 18 (7009)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2390)، سنن النسائی/الإیمان 18 (5014) (تحفة الأشراف: 3961)، و مسند احمد (3/86) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
**
الحكم: **