بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین پر جمے رہنا ہاتھ میں چنگاری رکھنے کی طرح ہو گا۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں باب: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین پر جمے رہنا ہاتھ میں چنگاری رکھنے کی طرح ہو گا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2260 جامع ترمذی
إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ الْكُوفِيِّ ، عُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ الْكُوفِيِّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ، قَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
۲- عمر بن شاکر ایک بصریٰ شیخ ہیں، ان سے کئی اہل علم نے حدیث روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1107) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہاتھ پر آگ کا انگارہ رکھنے والا بے انتہا مشقت و تکلیف برداشت کرتا ہے اسی طرح اس زمانے میں اپنے دین کی حفاظت اسی وقت ممکن ہو گی جب ثبات قدمی اور صبر عظیم سے کام لیا جائے گا، کیونکہ دین پر قائم رہنے والا ایسی مصیبت میں گرفتار ہو گا جیسے چنگاری کو ہاتھ پر رکھنے والا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (957)
قال الشيخ زبير على زئي
(2260) إسناده ضعيف
عمر بن شاكر ضعيف ( تق: 4917) والحديث الآتي (الأصل :3058) يغني عنه
الحكم: صحيح، الصحيحة (957)