مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، زَيْدًا الْعَمِّيَّ ، أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ زَيْدًا الْعَمِّيَّ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ، فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيَّ يَخْرُجُ يَعِيشُ خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، أَوْ تِسْعًا "، زَيْدٌ الشَّاكُّ، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: " سِنِينَ "، قَالَ: " فَيَجِيءُ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ، أَعْطِنِي أَعْطِنِي، قَالَ: فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، وَيُقَالُ: بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے ڈرے کہ ہمارے نبی کے بعد کچھ حادثات پیش آئیں، لہٰذا ہم نے آپ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”میری امت میں مہدی ہیں جو نکلیں گے اور پانچ، سات یا نو تک زندہ رہیں گے، (اس گنتی میں زیدالعمی کی طرف سے شک ہوا ہے
“، راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: ان گنتیوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: سال) آپ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”پھر ان کے پاس ایک آدمی آئے گا اور کہے گا: مہدی! مجھے دیجئیے، مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا:
”وہ اس آدمی کے کپڑے میں (دینار و درہم) اتنا رکھ دیں گے کہ وہ اٹھا نہ سکے گا
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کئی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2232] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الفتن 24 (4083) (تحفة الأشراف: 3976) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن، ابن ماجة (4083)
قال الشيخ زبير على زئي
(2232) إسناده ضعيف / جه 4083
زيد العمي: ضعيف (تقدم: 1442)
الحكم: حسن، ابن ماجة (4083)