بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: فتنوں کے پھیلنے سے متعلق ایک پیش گوئی۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں باب: فتنوں کے پھیلنے سے متعلق ایک پیش گوئی۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2206 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: " مَا مِنْ عَامٍ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ "، سَمِعْتُ هَذَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی الله عنہ کے گھر گئے اور ان سے حجاج کے مظالم کی شکایت کی، تو انہوں نے کہا: آنے والا ہر سال (گزرے ہوئے سال سے) برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو، اسے میں نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الفتن 6 (7068) (تحفة الأشراف: 836) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (1 / 10 و 1218)
الحكم: صحيح، الصحيحة (1 / 10 و 1218)
حدیث نمبر: 2207 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک روئے زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 754) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت اس وقت قائم ہو گی جب روئے زمین پر اللہ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا، صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے، کیونکہ یمن کی جانب سے ایک ہوا ایسی چلے گی جو مومنوں کی روحوں کو قبض کر لے گی، صرف غیر مومن رہ جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح