بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: درندوں کے انسانوں سے گفتگو کرنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں باب: درندوں کے انسانوں سے گفتگو کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2181 جامع ترمذی
سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، أَبِي ، الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ ، أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَحَتَّى تُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ، وَشِرَاكُ نَعْلِهِ، وَتُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ مِنْ بَعْدِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ درندے انسانوں سے گفتگو نہ کرنے لگیں، آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارہ گفتگو کرنے لگے، اس کے جوتے کا تسمہ گفتگو کرنے لگے اور اس کی ران اس کام کی خبر دینے لگے جو اس کی بیوی نے اس کی غیر حاضری میں انجام دیا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- قاسم بن فضل محدثین کے نزدیک ثقہ اور مامون ہیں، یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کی توثیق کی ہے،
۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4371)، و مسند احمد (3/83-84) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (22) ، المشكاة (5459)
الحكم: صحيح، الصحيحة (22) ، المشكاة (5459)