بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اس آدمی کا بیان جس کا موت کے بعد کوئی وارث نہ ہو۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: وراثت کے احکام و مسائل باب: اس آدمی کا بیان جس کا موت کے بعد کوئی وارث نہ ہو۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2105 جامع ترمذی
بُنْدَارٌ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبِهَانِيِّ ، مُجَاهِدٍ وَهُوَ ابْنُ وَرْدَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبِهَانِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ابْنُ وَرْدَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ عِذْقِ نَخْلَةٍ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ وَارِثٍ "، قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَادْفَعُوهُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِ الْقَرْيَةِ "، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کی ٹہنی سے گرا اور مر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، کیا اس کا کوئی وارث ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: اس کا مال اس کے گاؤں کے کچھ لوگوں کو دے دو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الفرائض 8 (2902)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 7 (2733) (تحفة الأشراف: 16381)، و مسند احمد (6/137، 181 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2733)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2733)