مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو عَامِرٍ ، كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا " وَهَذَا الْحَدِيثُ مُفَسِّرٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”مومن لعن و طعن کرنے والا نہیں ہوتا ہے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- بعض لوگوں نے اسی سند سے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یوں روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
”مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعن وطعن کرنے والا ہو
“، یہ حدیث پہلی حدیث کی وضاحت کر رہی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2019] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6794) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (4848 / التحقيق الثانى) ، ظلال الجنة (1014)
الحكم: صحيح، المشكاة (4848 / التحقيق الثانى) ، ظلال الجنة (1014)