بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہنسی مذاق، خوش طبعی اور دل لگی کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نیکی اور صلہ رحمی باب: ہنسی مذاق، خوش طبعی اور دل لگی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1989 جامع ترمذی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَضَّاحِ الْكُوفِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، شُعْبَةَ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَضَّاحِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَنْ كَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَقُولُ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: " يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر والوں کے ساتھ اس قدر مل جل کر رہتے تھے کہ ہمارے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ابوعمیر! نغیر کا کیا ہوا؟ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 333 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نغیر گوریا کی مانند ایک چڑیا ہے جس کی چونچ لال ہوتی ہے، ابوعمیر نے اس چڑیا کو پال رکھا تھا اور اس سے بہت پیار کرتے تھے، جب وہ مر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تسلی مزاح کے طور پر ان سے پوچھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح وقد مضى (333)
الحكم: صحيح وقد مضى (333)
حدیث نمبر: 1990 جامع ترمذی
عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا، قَالَ: " إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَعْنَى قَوْلِهِ: إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا: إِنَّمَا يَعْنُونَ إِنَّكَ تُمَازِحُنَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہم سے ہنسی مذاق کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں (خوش طبعی اور مزاح میں بھی) حق کے سوا کچھ نہیں کہتا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12949)، وانظر: مسند احمد (2/340، 360) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: لوگوں کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے ہمیں مزاح (ہنسی مذاق) اور خوش طبعی کرنے سے منع فرمایا ہے اور آپ خود خوش طبعی کرتے ہیں، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ مزاح اور خوش طبعی کے وقت بھی میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا، جب کہ ایسے موقع پر دوسرے لوگ غیر مناسب اور ناحق باتیں بھی کہہ جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (1726) ، مختصر الشمائل (202)
الحكم: صحيح، الصحيحة (1726) ، مختصر الشمائل (202)
حدیث نمبر: 1991 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ النَّاقَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سواری کی درخواست کی، آپ نے فرمایا: میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے؟ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأدب 92 (4998) (تحفة الأشراف: 655) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے، ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا تھا: «لا تدخل الجنة عجوز» یعنی بوڑھیا جنت میں نہیں جائیں گی، جس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت ہر عورت نوجوان ہو گی، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان: «إني حاملك على ولد الناقة» کا بھی حال ہے، مفہوم یہ ہے کہ اگر کہنے والے کی بات پر غور کر لیا جائے تو پھر سوال کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (4886) ، مختصر الشمائل (203)
الحكم: صحيح، المشكاة (4886) ، مختصر الشمائل (203)
حدیث نمبر: 1992 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، شَرِيكٍ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ "، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي مَازَحَهُ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے دو کان والے! محمود بن غیلان کہتے ہیں: ابواسامہ نے کہا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے مزاح کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1992]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأدب 92 (5002)، ویأتي في المناقب 56 (برقم: 3828) (تحفة الأشراف: 934)، و مسند احمد (3/117، 127، 242، 260) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح مختصر الشمائل (200)
الحكم: صحيح مختصر الشمائل (200)