الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٌ ، وَثَابِتٌ ، وَقَتَادَةُ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، وَثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: " اشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَنَسٍ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی، اس لیے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیجا اور فرمایا:
”اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیو
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی انس سے آئی ہے، ابوقلابہ نے اسے انس سے روایت کی ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بھی اسے قتادہ کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1845] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 72 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2578)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2578)