إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، مَعْنٌ ، مَالِكٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَافَهُ ضَيْفٌ كَافِرٌ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ، ثُمَّ أَصْبَحَ مِنَ الْغَدِ فَأَسْلَمَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مَعْيٍ وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک کافر مہمان آیا، آپ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، بکری دو ہی گئی، وہ دودھ پی گیا، پھر دوسری دو ہی گئی، اس کو بھی پی گیا، اس طرح وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا، پھر کل صبح ہو کر وہ اسلام لے آیا، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری (دوہنے کا) حکم دیا، وہ دو ہی گئی، وہ اس کا دودھ پی گیا، پھر آپ نے دوسری کا حکم دیا تو وہ اس کا پورا دودھ نہ پی سکا، (اس پر) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث سہیل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1819] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأطعمة 12 (5396-5397)، صحیح مسلم/الأشربة 34 (2063)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 3 (3256)، (تحفة الأشراف: 12739)، وط/صفة النبيصلى الله عليه و آله وسلم 6 (9، 10)، مسند احمد (2/375، 257، 415، 435، 437، 455)، سنن الدارمی/الأطعمة 13 (2084) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3256)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3256)