بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: کھانے کے احکام و مسائل باب: بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1799 جامع ترمذی
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَحَفْصَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَى مَعْمَرٌ، وَعُقَيْلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَرِوَايَةُ مَالِكٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسی طرح مالک اور ابن عیینہ نے بسند «الزهري عن أبي بكر بن عبيد الله عن ابن عمر» روایت کی ہے، معمر اور عقیل نے اسے زہری سے، بسند «سالم بن عبداللہ عن ابن عمر» روایت کی ہے، مالک اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے،
۳- اس باب میں جابر، عمر بن ابی سلمہ، سلمہ بن الاکوع، انس بن مالک اور حفصہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1799]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الأشربة 13 (2020) سنن ابی داود/ الأطعمة 20 (3776)، (تحفة الأشراف: 8579)، وط/صفة النبی صلى الله عليه و آله وسلم 4 (6)، و مسند احمد (2/106)، سنن الدارمی/الأطعمة 9 (2073) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ضروری ہے، اور بائیں ہاتھ سے مکروہ ہے، البتہ کسی عذر کی صورت میں بائیں کا استعمال کھانے پینے کے لیے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (1236)
الحكم: صحيح، الصحيحة (1236)
حدیث نمبر: 1800 جامع ترمذی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (لم یذکرہ المزي) (صحیح)»