بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لوہے کی انگوٹھی کے استعمال کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: لباس کے احکام و مسائل باب: لوہے کی انگوٹھی کے استعمال کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1785 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ: " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ "، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: " مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ "، ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: " مَالِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ "، قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ، قَالَ: " مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو؟ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آ رہی ہے؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ نے فرمایا: کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو؟ اس نے پوچھا: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ نے فرمایا: چاندی کی اور (وزن میں) ایک مثقال سے کم رکھو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے،
۳- عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1785]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الخاتم 4 (4223)، سنن النسائی/الزینة 46 (5198)، (تحفة الأشراف: 1982)، و مسند احمد (5/359) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن مسلم ابو طیبہ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں اکثر وہم ہو جایا کرتا تھا)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (4396) ، آداب الزفاف (128)
الحكم: ضعيف، المشكاة (4396) ، آداب الزفاف (128)