بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ٹوپی پر عمامہ (پگڑی) باندھنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: لباس کے احکام و مسائل باب: ٹوپی پر عمامہ (پگڑی) باندھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1784 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيِّ ، أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُكَانَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَلَا نَعْرِفُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيَّ، وَلَا ابْنَ رُكَانَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کشتی لڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پچھاڑ دیا، رکانہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ہمارے اور مشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اس کی سند قائم (صحیح) نہیں ہے،
۳- ہم ابوالحسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1784]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ اللباس 24 (4078)، (تحفة الأشراف: 3614) (ضعیف) (اس کے راوی ابو جعفر بن محمد مجہول ہیں نیز محمد بن علی یزید بن رکانہ اور ان کے پردادا رکانہ یا محمد بن یزید بن رکانہ ان کے دادا کے درمیان انقطاع ہے، اس بابت سخت اختلاف ہے دیکھئے: تہذیب الکمال)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (4340) ، الإرواء (1503) // ضعيف الجامع الصغير (3959) ، ضعيف أبي داود (882 / 4078) //
قال الشيخ زبير على زئي
(1784) إسناده ضعيف / د 4078
الحكم: ضعيف، المشكاة (4340) ، الإرواء (1503) // ضعيف الجامع الصغير (3959) ، ضعيف أبي داود (882 / 4078) //