بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دانتوں کو سونے سے باندھنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: لباس کے احکام و مسائل باب: دانتوں کو سونے سے باندھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1770 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، وَأَبُو سَعْدٍ الصَّغَانِيُّ ، أَبِي الْأَشْهَبِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ ، عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، أَبِي الْأَشْهَبِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، وَأَبُو سَعْدٍ الصَّغَانِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، قَالَ: " أُصِيبَ أَنْفِي يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاتَّخَذْتُ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيَّ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ "، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، وَقَدْ رَوَى سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ " أَنَّهُمْ شَدُّوا أَسْنَانَهُمْ بِالذَّهَبِ "، وَفِي الْحَدِيثِ حُجَّةٌ لَهُمْ، وقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ سَلْمُ بْنُ زَرِينٍ وَهُوَ وَهْمٌ وَزَرِيرٌ أَصَحُّ، وَأَبُو سَعْدٍ الصَّغَانِيُّ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسِّرٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عرفجہ بن اسعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں کلاب ۱؎ (ایک لڑائی) کے دن میری ناک کٹ گئی، میں نے چاندی کی ایک ناک لگائی تو اس سے بدبو آنے لگی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سونے کی ایک ناک لگانے کا حکم دیا ۲؎۔ اس سند سے بھی ابوشہب سے اسی جیسی حدیث روایت ہے،
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن طرفہ کی روایت سے جانتے ہیں، سلیم بن زریر نے بھی عبدالرحمٰن بن طرفہ سے ابوشہاب کی حدیث جیسی روایت کی ہے،
۳- اہل علم میں سے کئی ایک سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے دانتوں کو سونے (کے تار) سے باندھا، اس حدیث میں ان کے لیے دلیل موجود ہے،
۴- عبدالرحمٰن بن مہدی نے (سلم بن زریر کے بجائے) سلم بن زرین کہا ہے، یہاں ان سے وہم ہوا ہے وزریر زیادہ صحیح ہے، راوی ابوسعید صغانی کا نام محمد بن میسر ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الخاتم 7 (4232)، سنن النسائی/الزینة 41 (5164)، (تحفة الأشراف: 9895)، و مسند احمد (5/23) (حسن)»
وضاحت
۱؎: عرب کے مشہور جنگوں میں سے ایک جنگ کا نام ہے۔
۲؎: اسی سے استدلال کرتے ہوئے علماء کہتے ہیں کہ اشد ضرورت کے تحت سونے کی ناک بنانا اور سونے کے تار سے دانت باندھنا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن، المشكاة (4400 / التحقيق الثانى)
الحكم: حسن، المشكاة (4400 / التحقيق الثانى)