بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: جہاد کے احکام و مسائل باب: جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1708 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي يَحْيَى ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الجہاد 56 (2562)، (تحفة الأشراف: 6431) (ضعیف) (اس کے راوی ابو یحییٰ قتات ضعیف ہیں)»
وضاحت
۱؎: منع کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس سے جانوروں کو تکلیف اور تکان لاحق ہو گی، نیز اس کام سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ یہ عبث اور لایعنی کاموں میں سے ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف غاية المرام (383) ، ضعيف أبي داود (443)
قال الشيخ زبير على زئي
(1708) إسناده ضعيف / د 2562
الحكم: ضعيف غاية المرام (383) ، ضعيف أبي داود (443)
حدیث نمبر: 1709 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي يَحْيَى ، مُجَاهِدٍ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، يَحْيَى بْنِ آدَمَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَيُقَالُ: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ قُطْبَةَ، وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَأَبُو يَحْيَى هُوَ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ وَيُقَالُ اسْمُهُ: زَاذَانُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ طَلْحَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مجاہد سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس سند میں راوی نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے،
۲- کہا جاتا ہے، قطبہ کی (اگلی) حدیث سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، اس حدیث کو شریک نے بطریق «مجاهد عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں ابویحییٰ کا ذکر نہیں کیا ہے،
۳- اور ابومعاویہ نے اس کو بطریق «الأعمش عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے، ابویحییٰ سے مراد ابویحییٰ قتات کوفی ہیں، کہا جاتا ہے ان کا نام زاذان ہے،
۴- اس باب میں طلحہ، جابر، ابوسعید اور عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19280) (ضعیف) (ابو یحیی قتات ضعیف ہیں، نیز یہ روایت مرسل ہے)»
قال الشيخ زبير على زئي
(1709) إسناده ضعيف
السند مرسل، وانظر الحديث السابق:1708
الحكم: (1709) إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1710 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/اللباس 29 (2116)، (تحفة الأشراف: 2816)، و مسند احمد (3/318، 378) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے، چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہو سکتے ہیں، ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے، اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (2185) ، صحيح أبي داود (2310)
الحكم: صحيح، الإرواء (2185) ، صحيح أبي داود (2310)