بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: امام کی اطاعت کرنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: جہاد کے احکام و مسائل باب: امام کی اطاعت کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1706 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، أُمِّ الْحُصَيْنِ الْأَحْمَسِيَّةِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ الْأَحْمَسِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ قَدِ الْتَفَعَ بِهِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، قَالَتْ: فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى عَضَلَةِ عَضُدِهِ تَرْتَجُّ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ، فَاسْمَعُوا لَهُ، وَأَطِيعُوا مَا أَقَامَ لَكُمْ كِتَابَ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أُمِّ حُصَيْنٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام حصین احمسیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے، (گویا میں) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے (یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے) ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- (یہ حدیث) دوسری سندوں سے بھی ام حصین سے مروی ہے،
۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عرباض بن ساریہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 51 (1298/311)، والإمارة (1838/37)، (تحفة الأشراف: 18313)، و مسند احمد (6/402) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں امیر کی اطاعت اور اس کی ماتحتی میں رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، اور ہر ایسے عمل سے دور رہنے کا حکم دیا جا رہا ہے جس سے فتنہ کے سر اٹھانے اور مسلمانوں کی اجتماعیت میں انتشار پید ہونے کا اندیشہ ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2861)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2861)