بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جھنڈے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: جہاد کے احکام و مسائل باب: جھنڈے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1680 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ، يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَالْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَأَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ اسْمُهُ: إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَى عَنْهُ أَيْضًا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یونس بن عبید مولیٰ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ مجھ کو محمد بن قاسم نے براء بن عازب رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جھنڈے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، براء نے کہا: آپ کا جھنڈا دھاری دار چوکور اور کالا تھا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف ابن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- اس باب میں علی، حارث بن حسان اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۴- ابویعقوب ثقفی کا نام اسحاق بن ابراہیم ہے، ان سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بھی روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الجہاد 76 (2591)، (تحفة الأشراف: 1922) (صحیح) (لیکن ”چوکور“ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اس کے راوی ابو یعقوب الثقفی ضعیف ہیں اور اس لفظ میں ان کا متابع یا شاہد نہیں ہے)»
وضاحت
۱؎: بعض روایات سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جھنڈے پر «لا إله إلا الله محمد رسول الله» لکھا ہوا تھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله " مربعة "، صحيح أبي داود (2333)
الحكم: صحيح دون قوله " مربعة "، صحيح أبي داود (2333)
حدیث نمبر: 1681 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق وَهُوَ السَّالِحَانِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ ، أَبَا مِجْلَزٍ لَاحِقَ بْنَ حُمَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق وَهُوَ السَّالِحَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ لَاحِقَ بْنَ حُمَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَتْ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جھنڈا کالا اور پرچم سفید تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
ابن عباس کی یہ روایت اس سند سے حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الجہاد 20 (2818)، (تحفة الأشراف: 6542) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن، ابن ماجة (2818)
الحكم: حسن، ابن ماجة (2818)