بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کون سا عمل سب سے افضل اور بہتر ہے؟
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل جہاد باب: کون سا عمل سب سے افضل اور بہتر ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1658 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ، أَوْ أَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ "، قِيلَ: ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ سَنَامُ الْعَمَلِ "، قِيلَ: ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے، یا کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، پوچھا گیا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: جہاد، وہ نیکی کا کوہان ہے۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ آپ نے فرمایا: حج مبرور (مقبول)۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15060) (حسن صحیح) (وراجع: صحیح البخاری/الإیمان 18 (26)، والحج 4 (1519)، صحیح مسلم/الإیمان 36 (83)، سنن النسائی/الحج 4 (2625)، والجھاد 17 (3132)، و مسند احمد (2/287)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
الحكم: حسن صحيح