بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جہاد کے مستحب اوقات کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: جہاد کے احکام و مسائل باب: جہاد کے مستحب اوقات کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1612 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، أَمْسَكَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ، قَاتَلَ، فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ، أَمْسَكَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، قَاتَلَ حَتَّى الْعَصْرِ، ثُمَّ أَمْسَكَ حَتَّى يُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يُقَاتِلُ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: عِنْدَ ذَلِكَ تَهِيجُ رِيَاحُ النَّصْرِ، وَيَدْعُو الْمُؤْمِنُونَ لِجُيُوشِهِمْ فِي صَلَاتِهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ بِإِسْنَادٍ أَوْصَلَ مِنْ هَذَا، وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكْ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، وَمَاتَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نعمان بن مقرن رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، جب فجر طلوع ہوتی تو آپ (قتال سے) ٹھہر جاتے یہاں تک کہ سورج نکل جاتا، جب سورج نکل جاتا تو آپ جہاد میں لگ جاتے، پھر جب دوپہر ہوتی آپ رک جاتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ عصر تک جہاد کرتے، پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ عصر پڑھ لیتے، پھر جہاد (شروع) کرتے۔ کہا جاتا تھا کہ اس وقت نصرت الٰہی کی ہوا چلتی ہے اور مومن اپنے مجاہدین کے لیے نماز میں دعائیں کرتے ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
نعمان بن مقرن رضی الله عنہ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے جو موصول ہے، قتادہ کی ملاقات نعمان سے نہیں ہے، نعمان بن مقرن کی وفات عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف وانظر الحدیث الآتي (تحفة الأشراف: 11649)، (ضعیف الإسناد) (قتادہ کی نعمان بن مقرن رضی الله عنہ سے لقاء نہیں اس لیے اس سند میں انقطاع ہے، اگلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (3934 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبير على زئي
(1612) إسناده ضعيف
قتاده مدلس وعنعن (تقدم: 30) والحديث الأتي (الأصل : 1613) يغني عنه
الحكم: ضعيف، المشكاة (3934 / التحقيق الثاني)
حدیث نمبر: 1613 جامع ترمذی
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ إِلَى الْهُرْمُزَانِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، فَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ، انْتَظَرَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے نعمان بن مقرن رضی الله عنہ کو ہرمز ان کے پاس بھیجا، پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی، نعمان بن مقرن رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (کسی غزوہ میں) حاضر ہوا، جب آپ دن کے شروع حصہ میں نہیں لڑتے تو انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، ہوا چلنے لگتی اور نصرت الٰہی کا نزول ہوتا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجزیة 1 (3160)، سنن ابی داود/ الجہاد 111 (2655)، (تحفة الأشراف: 9207) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، صحيح أبي داود (2385) ، المشكاة (3933 / التحقيق الثانى)
الحكم: صحيح، صحيح أبي داود (2385) ، المشكاة (3933 / التحقيق الثانى)