أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، نَحْوَ هَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا:
”فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے، اور جب تم کو جہاد کے لیے طلب کیا جائے تو نکل پڑو
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- سفیان ثوری نے بھی منصور بن معتمر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے،
۳- اس باب میں ابوسعید، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن حبشی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1590] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/جزاء الصید 10 (1834)، والجہاد 1 (2783)، و 27 (2825)، و 194 (3077)، والجزیة 22 (3189)، صحیح مسلم/الحج 82 (1353)، والإمارة 20 (1353/85)، سنن ابی داود/ المناسک 90 (2018)، (إشارة) والجہاد 2 (2480)، سنن النسائی/البیعة 15 (4175)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 9 (2773)، (تحفة الأشراف: 5748)، و مسند احمد (1/226، 226، 316، 355)، وسنن الدارمی/السیر 69 (2554) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مکہ سے خاص طور پر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں ہے کیونکہ مکہ اب دارالسلام بن گیا ہے، البتہ دارالکفر سے دارالسلام کی طرف ہجرت تاقیامت باقی رہے گی جیسا کہ بعض احادیث سے ثابت ہے اور مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے سبب جس خیر و بھلائی سے لوگ محروم ہو گئے اس کا حصول جہاد اور صالح نیت کے ذریعہ ممکن ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2773)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2773)