أبو عُبَيْدَةَ بن أبي السَّفَرِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ ، ابْنُ عَوْنٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عَبِيدَةَ
حَدَّثَنَا أبو عُبَيْدَةَ بن أبي السَّفَرِ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ جِبْرَائِيلَ هَبَطَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: خَيِّرْهُمْ، يَعْنِي: أَصْحَابَكَ، فِي أُسَارَى بَدْرٍ، الْقَتْلَ أَوِ الْفِدَاءَ، عَلَى أَنْ يُقْتَلَ مِنْهُمْ قَابِلًا مِثْلُهُمْ، قَالُوا: الْفِدَاءَ، وَيُقْتَلُ مِنَّا "، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي بَرْزَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَرَوَى ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَأَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ اسْمُهُ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”جبرائیل نے میرے پاس آ کر کہا: اپنے ساتھیوں کو بدر کے قیدیوں کے سلسلے میں اختیار دیں، وہ چاہیں تو انہیں قتل کریں، چاہیں تو فدیہ لیں، فدیہ کی صورت میں ان میں سے آئندہ سال اتنے ہی آدمی قتل کئے جائیں گے، ان لوگوں نے کہا: فدیہ لیں گے اور ہم میں سے قتل کئے جائیں
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف ابن ابی زائدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- ابواسامہ نے بسند
«هشام عن ابن سيرين عن عبيدة عن علي عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے،
۳- ابن عون نے بسند
«ابن سيرين عن عبيدة عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» مرسلاً روایت کی ہے،
۴- اس باب میں ابن مسعود، انس، ابوبرزہ، اور جبیر بن مطعم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1567] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ) (تحفة الأشراف: 10234) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صحابہ کی یہ دلی خواہش تھی کہ یہ قیدی مشرف بہ اسلام ہو جائیں اور مستقبل میں اپنی جان دے کر شہادت کا درجہ حاصل کر لیں (حدیث کی سند اور معنی دونوں پر کلام ہے؟)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (3973 / التحقيق الثاني) ، الإرواء (5 / 48 - 49)
قال الشيخ زبير على زئي
(1567) إسناده ضعيف
ھشام بن حسان عنعن (تقدم: 460) سفيان الثوري عنعن (تقدم:746)
الحكم: صحيح، المشكاة (3973 / التحقيق الثاني) ، الإرواء (5 / 48 - 49)